• News
  • »
  • کاروبار
  • »
  • لندن میں اڈانی گرین الیکٹریفیکیشن ڈائیلاگ، صاف توانائی کے مستقبل پر زور

لندن میں اڈانی گرین الیکٹریفیکیشن ڈائیلاگ، صاف توانائی کے مستقبل پر زور

    Reported By: Munsif News Bureau | Edited By: MD Shahbaz | Last Updated: Jun 28, 2026 IST

لندن میں اڈانی گرین الیکٹریفیکیشن ڈائیلاگ، صاف توانائی کے مستقبل پر زور
اڈانی گروپ نے عالمی صاف توانائی کے شعبے میں اپنی موجودگی کو مزید مضبوط کرتے ہوئے لندن کے سائنس میوزیم میں "اڈانی گرین الیکٹریفیکیشن ڈائیلاگ" کا انعقاد کیا، جہاں عالمی رہنماؤں، سرمایہ کاروں اور توانائی کے ماہرین نے مستقبل کی توانائی، بجلی کاری اور قابل تجدید ذرائع پر تبادلہ خیال کیا۔ اس موقع پر اڈانی گرین انرجی لمیٹڈ کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر ساگر اڈانی نے کمپنی کے مستقبل کے وژن اور توانائی کی منتقلی سے متعلق منصوبوں کا خاکہ پیش کیا۔
 
ساگر اڈانی نے اپنے خطاب میں کہا کہ آنے والے برسوں میں تیزی سے بڑھتی ہوئی بجلی کی طلب دنیا کے لیے سب سے بڑا چیلنج ہوگی۔ ان کے مطابق صرف شمسی اور ہوا سے حاصل ہونے والی قابل تجدید توانائی کافی نہیں ہوگی، بلکہ اسے بیٹری اسٹوریج، جدید پاور گرڈ اور مضبوط ٹرانسمیشن نظام کے ساتھ مربوط کرنا ضروری ہے تاکہ چوبیس گھنٹے مستحکم بجلی کی فراہمی ممکن بنائی جا سکے۔
 
انہوں نے کہا کہ دنیا اس وقت تین بڑے چیلنجوں کا سامنا کر رہی ہے، جن میں توانائی کی سلامتی، سستی بجلی کی فراہمی اور ماحول دوست ترقی شامل ہیں۔ ان کے مطابق بجلی کاری اب محض ایک متبادل نہیں بلکہ اقتصادی ترقی اور توانائی کے تحفظ کے لیے ناگزیر ضرورت بن چکی ہے۔
 
ساگر اڈانی نے بتایا کہ اڈانی گرین انرجی کا ہدف 2030 تک اپنی قابل تجدید توانائی کی پیداواری صلاحیت کو 50 گیگا واٹ تک پہنچانا ہے۔ اس مقصد کے لیے شمسی اور ونڈ پاور منصوبوں کے ساتھ بڑے پیمانے پر بیٹری اسٹوریج سسٹمز بھی تیار کیے جا رہے ہیں تاکہ بجلی کی مسلسل فراہمی یقینی بنائی جا سکے۔
 
انہوں نے مزید کہا کہ اڈانی گروپ توانائی کی منتقلی اور متعلقہ بنیادی ڈھانچے میں 100 ارب امریکی ڈالر سے زائد سرمایہ کاری کا منصوبہ رکھتا ہے۔ یہ سرمایہ کاری شمسی اور ہوا سے بجلی پیدا کرنے کے علاوہ گرین ہائیڈروجن، توانائی ذخیرہ کرنے کے نظام، ٹرانسمیشن نیٹ ورکس، ڈیجیٹل انفراسٹرکچر اور جوہری توانائی جیسے شعبوں میں بھی کی جائے گی۔
 
تقریب میں آکٹوپس انرجی، شنائیڈر الیکٹرک، گرین فنانس انسٹی ٹیوٹ اور کلائمیٹ بانڈز انیشی ایٹو سمیت متعدد بین الاقوامی اداروں کے نمائندوں نے شرکت کی۔ شرکاء نے اس بات پر تبادلہ خیال کیا کہ صاف توانائی کی جانب تیز رفتار منتقلی کے لیے کن پالیسیوں، سرمایہ کاری اور عالمی تعاون کی ضرورت ہوگی۔
 
ساگر اڈانی نے اس بات کی بھی نشاندہی کی کہ مصنوعی ذہانت (AI)، ڈیٹا سینٹرز، ڈیجیٹل انفراسٹرکچر اور جدید مینوفیکچرنگ کی تیز رفتار ترقی کے باعث مستقبل میں بجلی کی طلب میں نمایاں اضافہ ہوگا۔ ان کے مطابق ایسے حالات میں قابل تجدید توانائی اور توانائی ذخیرہ کرنے کے جدید نظام عالمی معیشت کے لیے بنیادی اہمیت اختیار کر جائیں گے۔
 
اڈانی گروپ کے چیئرمین گوتم اڈانی نے حالیہ سالانہ جنرل میٹنگ میں بھی اس وژن کی توثیق کرتے ہوئے کہا تھا کہ گروپ بھارت کی بڑھتی ہوئی توانائی ضروریات کو پورا کرنے کے لیے بڑے پیمانے پر سرمایہ کاری جاری رکھے گا۔ انہوں نے جوہری توانائی کے شعبے میں 10 گیگا واٹ تک صلاحیت تیار کرنے کے منصوبوں کا بھی اعلان کیا تھا۔
 
تقریب کے اختتام پر شرکاء کو لندن کے سائنس میوزیم میں قائم "انرجی ریوولیوشن: دی اڈانی گرین انرجی" گیلری کا دورہ کرایا گیا، جہاں صاف توانائی کی جدید ٹیکنالوجیز اور ان کے عملی استعمال کو پیش کیا گیا۔ اڈانی گروپ کا کہنا ہے کہ وہ نہ صرف ایک کاروباری ادارہ بلکہ بھارت کی توانائی کی منتقلی اور پائیدار ترقی میں ایک اہم شراکت دار کے طور پر اپنا کردار مزید مضبوط بنانے کے لیے پرعزم ہے۔