• News
  • »
  • جرائم/حادثات
  • »
  • بھیونڈی میں ٹائر اور لکڑی کے گودام میں خوفناک آتشزدگی

بھیونڈی میں ٹائر اور لکڑی کے گودام میں خوفناک آتشزدگی

    Reported By: Munsif News Bureau | Edited By: MD Shahbaz | Last Updated: Jun 28, 2026 IST

بھیونڈی میں ٹائر اور لکڑی کے گودام میں خوفناک آتشزدگی
مہاراشٹر کے ضلع تھانے کے بھیونڈی علاقے میں ممبئی-ناسک ہائی وے کے کنارے واقع ٹائروں اور لکڑی کے پیلٹ کے ایک گودام میں اتوار کی صبح اچانک خوفناک آگ بھڑک اٹھی۔ آگ نے دیکھتے ہی دیکھتے پورے گودام کو اپنی لپیٹ میں لے لیا، جس کے باعث علاقے میں سیاہ دھوئیں کے گھنے بادل چھا گئے اور دور دور تک دھواں دکھائی دینے لگا۔
 
اطلاع ملتے ہی فائر بریگیڈ کی متعدد گاڑیاں موقع پر پہنچ گئیں اور آگ پر قابو پانے کی کارروائیاں شروع کر دیں۔ آگ کی شدت اس قدر زیادہ تھی کہ فائر فائٹرز کو شعلوں تک پہنچنے اور انہیں قابو میں کرنے میں خاصی دشواری کا سامنا کرنا پڑا۔ گودام میں بڑی مقدار میں ٹائر، لکڑی کے پیلٹ اور دیگر آتش گیر خام مال موجود ہونے کی وجہ سے آگ تیزی سے پھیلتی رہی۔
 
فائر بریگیڈ کے افسر سریش مہاترے نے میڈیا کو بتایا کہ یہ واقعہ نمباولی علاقے میں کمبڈاواڈا اور آئی جی ایم اسپتال کے قریب پیش آیا۔ ان کے مطابق ابتدائی مرحلے میں تین فائر انجن موقع پر تعینات کیے گئے، جبکہ ضرورت کے مطابق مزید امدادی وسائل بھی طلب کیے گئے تاکہ آگ کو آس پاس کی عمارتوں تک پھیلنے سے روکا جا سکے۔
 
سریش مہاترے نے بتایا کہ فائر بریگیڈ کی ٹیموں نے فوری کارروائی کرتے ہوئے گودام میں موجود تمام کارکنوں اور دیگر افراد کو بحفاظت باہر نکال لیا، جس کے باعث کسی جانی نقصان کی اطلاع نہیں ملی۔ تاہم گودام میں رکھا گیا لاکھوں روپے مالیت کا سامان آگ کی نذر ہوگیا اور بڑے پیمانے پر مالی نقصان کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔
 
حکام کے مطابق آگ لگنے کی اصل وجہ فوری طور پر معلوم نہیں ہو سکی ہے۔ ابتدائی طور پر شارٹ سرکٹ یا کسی تکنیکی خرابی کا شبہ ظاہر کیا جا رہا ہے، تاہم واقعے کی مکمل تحقیقات شروع کر دی گئی ہیں۔ فائر بریگیڈ اور مقامی انتظامیہ مختلف پہلوؤں کا جائزہ لے رہی ہے تاکہ آگ لگنے کی اصل وجوہات کا تعین کیا جا سکے۔
 
پولیس نے احتیاطی اقدام کے طور پر گودام کے اطراف کا علاقہ گھیرے میں لے لیا اور شہریوں سے اپیل کی کہ وہ جائے وقوعہ کے قریب جانے سے گریز کریں تاکہ امدادی کارروائیوں میں کوئی رکاوٹ نہ آئے۔ حکام کا کہنا ہے کہ آگ پر مکمل قابو پانے کے بعد نقصان کا تفصیلی تخمینہ لگایا جائے گا اور حفاظتی ضوابط پر عمل درآمد کا بھی جائزہ لیا جائے گا۔