بہار میں معروف تعلیمی ادارے خان گلوبل اسٹڈیز اور گیان بندو کوچنگ سینٹر کے درمیان جاری قانونی تنازعے میں نئی پیش رفت سامنے آئی ہے۔ پولیس نے اس معاملے کی کیس ڈائری تیار کر لی ہے، جس میں مبینہ طور پر ایسے نکات شامل کیے گئے ہیں جو خان سر اور ان کے سکیورٹی عملے کے لیے مشکلات بڑھا سکتے ہیں۔
پولیس ذرائع کے مطابق کیس ڈائری میں فائرنگ کے واقعے میں استعمال ہونے والے اسلحے کے لائسنس اور اس کی قانونی حیثیت پر سوالات اٹھائے گئے ہیں۔ دعویٰ کیا گیا ہے کہ ایک ہتھیار خان سر کے باڈی گارڈ تلبر سنگھ کے پاس تھا، تاہم اس کا بہار میں مطلوبہ اجازت نامہ موجود نہیں تھا۔ اسی طرح ایک دوسرے سکیورٹی گارڈ پردیپ کمار کے زیر استعمال اسلحے کے بارے میں بھی پولیس نے اعتراضات درج کیے ہیں۔
پولیس نے اپنی رپورٹ میں دونوں ہتھیاروں کی قانونی حیثیت، لائسنس کی جانچ اور ان کے استعمال سے متعلق متعدد نکات شامل کیے ہیں، جنہیں آئندہ عدالتی کارروائی میں اہم تصور کیا جا رہا ہے۔
اس مقدمے کی اگلی سماعت 30 جون کو مقرر ہے، جس پر سب کی نظریں لگی ہوئی ہیں۔ قانونی حلقوں میں قیاس آرائیاں کی جا رہی ہیں کہ عدالت اس روز کیس میں اہم ہدایات یا فیصلہ جاری کر سکتی ہے۔
یاد رہے کہ خان گلوبل اسٹڈیز کے کوچنگ سینٹر پر پتھراؤ کے واقعے کے بعد پولیس نے گیان بندو کوچنگ سینٹر کے بانی روشن آنند کو گرفتار کر کے جیل بھیج دیا تھا، جبکہ فیصل خان کو عدالت سے عبوری راحت ملی تھی اور ان کی گرفتاری پر روک لگا دی گئی تھی۔
اس معاملے میں فیصل خان کے دو سکیورٹی گارڈز کو 4 جون کو گرفتار کیا گیا تھا۔ پولیس کے مطابق ایک وائرل ویڈیو میں دونوں محافظ اسلحے سے فائرنگ کرتے ہوئے دکھائی دیے تھے، جس کے بعد ان کے قبضے سے ہتھیار برآمد کر کے فرانزک جانچ کے لیے بھیج دیے گئے۔
اب تمام نظریں 30 جون کی سماعت پر مرکوز ہیں، جہاں عدالت پولیس کی کیس ڈائری، فرانزک رپورٹ اور دیگر شواہد کا جائزہ لے سکتی ہے۔ تاہم، یہ واضح رہے کہ عدالت کی جانب سے حتمی فیصلہ آنے تک تمام الزامات زیرِ سماعت ہیں اور کسی بھی فریق کو قانونی طور پر قصوروار قرار نہیں دیا گیا ہے۔