Saturday, September 12, 2026 | 28 ربيع الأول 1448
  • News
  • »
  • قومی
  • »
  • سہارنپور مسجد انہدام معاملہ: الہ آباد ہائی کورٹ نے یوپی حکومت سے جواب طلب کرلیا

سہارنپور مسجد انہدام معاملہ: الہ آباد ہائی کورٹ نے یوپی حکومت سے جواب طلب کرلیا

    Reported By: Munsif News Bureau | Edited By: MD Shahbaz | Last Updated: Sep 12, 2026 IST

سہارنپور مسجد انہدام معاملہ: الہ آباد ہائی کورٹ نے یوپی حکومت سے جواب طلب کرلیا
سہارنپور کلکٹریٹ احاطے میں واقع مسجد کو مبینہ طور پر مسمار کیے جانے کے معاملے میں الہ آباد ہائی کورٹ نے اتر پردیش حکومت سے جواب طلب کیا ہے۔ عدالت نے حکومت کو ہدایت دی ہے کہ مسجد کے انہدام کے خلاف دائر رٹ پٹیشن پر تین ہفتوں کے اندر جوابی حلف نامہ داخل کیا جائے۔ یہ حکم جسٹس روہت رنجن اگروال نے درخواست کی سماعت کے دوران جاری کیا۔ عدالت نے معاملے کی اگلی سماعت کے لیے 12 اکتوبر کی تاریخ مقرر کی ہے۔ اس کے ساتھ ہی عدالت نے عبوری طور پر مسجد کی انتظامیہ سے چھ کروڑ روپے کا جرمانہ وصول کرنے پر روک لگا دی ہے۔ 
 
یہ درخواست وکیل محمد تنویر احمد کی جانب سے دائر کی گئی تھی۔ درخواست میں سہارنپور کے سٹی مجسٹریٹ کی جانب سے 16 جولائی کو جاری کیے گئے حکم اور سہارنپور کے ڈسٹرکٹ جج کی جانب سے 2 ستمبر کو دیے گئے حکم کو چیلنج کیا گیا ہے۔ درخواست گزار کی جانب سے عدالت کے سامنے مسجد سے متعلق کارروائی اور جرمانے کے معاملے پر اعتراضات اٹھائے گئے۔ اس کے بعد عدالت نے ریاستی حکومت سے پورے معاملے پر اپنا موقف واضح کرنے کے لیے جواب طلب کیا ہے۔ عدالت کی جانب سے تین ہفتوں میں جوابی حلف نامہ طلب کیے جانے کے بعد اب حکومت کو مسجد کے انہدام سے متعلق کارروائی، انتظامی احکامات اور جرمانے کے معاملے پر اپنا موقف پیش کرنا ہوگا۔
 
فی الحال عدالت نے 12 اکتوبر تک چھ کروڑ روپے کے جرمانے کی وصولی پر روک لگا دی ہے۔ تاہم مسجد کے انہدام اور اس سے متعلق دیگر قانونی نکات پر حتمی فیصلہ ابھی سامنے نہیں آیا ہے۔ آئندہ سماعت میں ریاستی حکومت کے جواب کے بعد عدالت معاملے کی مزید سماعت کرے گی۔ سہارنپور کلکٹریٹ احاطے میں واقع مسجد کا معاملہ گزشتہ کچھ عرصے سے قانونی بحث کا موضوع بنا ہوا ہے۔ اب الہ آباد ہائی کورٹ کی تازہ کارروائی کے بعد اس کیس میں ریاستی حکومت کا جواب اہمیت اختیار کر گیا ہے۔