انڈمان سمندر میں ایک ہولناک کشتی حادثہ پیش آیا ہے جس میں روہنگیا پناہ گزینوں اور بنگلہ دیشی شہریوں کو لے جانے والی ایک کشتی ڈوب گئی، جس کے نتیجے میں تقریباً 250 افراد لاپتہ ہو گئے ہیں۔ لاپتہ افراد کی تلاش کے لیے سمندر میں وسیع پیمانے پر ریسکیو آپریشن جاری ہے۔اطلاعات کے مطابق کشتی میں خواتین اور بچے بھی بڑی تعداد میں سوار تھے۔ حادثے کے بعد فوری طور پر امدادی کاروائیاں شروع کی گئیں، تاہم اب تک کئی افراد کا کوئی سراغ نہیں مل سکا ہے۔
اقوامِ متحدہ کے ادارہ برائے مہاجرین اور انٹرنیشنل آرگنائزیشن فار مائیگریشن نے اس واقعے پر مشترکہ بیان جاری کرتے ہوئے بتایا کہ یہ کشتی بنگلہ دیش کے جنوبی علاقے ٹیکناف سے روانہ ہوئی تھی اور ملائیشیا کی جانب جا رہی تھی۔بیان میں کہا گیا ہے کہ کشتی کے ڈوبنے کی بنیادی وجہ تیز ہوائیں اور سمندر میں بلند لہریں تھیں، جبکہ کشتی میں گنجائش سے زیادہ افراد کا سوار ہونا بھی اس سانحے کی ایک بڑی وجہ ہو سکتی ہے۔ اطلاعات کے مطابق یہ کشتی 4 اپریل کو بنگلہ دیش سے روانہ ہوئی تھی۔
اقوامِ متحدہ کے حکام کے مطابق کشتی میں سوار افراد کا تعلق زیادہ تر کاکس بازار کے پناہ گزین کیمپوں سے تھا، جہاں روہنگیا مہاجرین مشکل حالات میں زندگی گزار رہے ہیں۔ بہتر زندگی اور بنیادی سہولیات کی تلاش میں یہ افراد ملائیشیا کی طرف ہجرت کر رہے تھے کہ راستے میں یہ المناک حادثہ پیش آ گیا۔
اقوام متحدہ کی ایجنسیوں نے بین الاقوامی برادری پر بھی زور دیا کہ وہ یکجہتی میں اضافہ کرے اور بنگلہ دیش میں روہنگیا پناہ گزینوں کے لیے انسانی امداد کے ساتھ ساتھ متاثرہ میزبان برادریوں کی مدد کے لیے مالی امداد کو یقینی بنائے۔
واضح رہے کہ روہنگیا برادری کا تعلق میانمار سے ہے، جہاں 2017 میں فوجی کارروائیوں اور تشدد کے باعث لاکھوں افراد کو اپنا وطن چھوڑ کر بنگلہ دیش میں پناہ لینا پڑی۔ اس کے بعد سے کاکس بازار میں قائم مہاجر کیمپوں میں آبادی کا دباؤ بڑھ گیا ہے۔
حالیہ عرصے میں کیمپوں کی خراب صورتحال کے باعث کئی مہاجرین خطرناک سمندری راستوں کے ذریعے دوسرے ممالک منتقل ہونے کی کوشش کر رہے ہیں، جس کے نتیجے میں ایسے حادثات پیش آ رہے ہیں۔یہ واقعہ ایک بار پھر عالمی برادری کی توجہ اس سنگین انسانی بحران کی جانب مبذول کراتا ہے، جہاں ہزاروں افراد بہتر مستقبل کی تلاش میں اپنی جانوں کو خطرے میں ڈالنے پر مجبور ہیں۔