Wednesday, January 14, 2026 | 25, 1447 رجب
  • News
  • »
  • عالمی منظر
  • »
  • ایران میں احتجاج سے جڑی پہلی پھانسی، 26 سالہ عرفان کو سزائے موت دینے کی تیاری

ایران میں احتجاج سے جڑی پہلی پھانسی، 26 سالہ عرفان کو سزائے موت دینے کی تیاری

    Reported By: Munsif News Bureau | Edited By: MD Shahbaz | Last Updated: Jan 14, 2026 IST

ایران میں احتجاج سے جڑی پہلی پھانسی، 26 سالہ عرفان کو سزائے موت دینے کی تیاری
ایران میں جاری حکومت مخالف مظاہروں کے سلسلے میں پہلی بار سزائے موت کے ایک معاملے میں 26 سالہ نوجوان عرفان سلطانی کو پھانسی دینے کی تیاری کی جا رہی ہے۔ یہ واقعہ آیت اللہ علی خامنہ ای کے اقتدار کے خلاف جاری بڑے عوامی احتجاج کے درمیان پیش آیا ہے۔
 
عرفان کو دو دن میں سزائے موت سنا دی گئی
 
عرفان سلطانی فردیس کے رہنے والا تھا، جو تہران کے مغرب میں واقع کرج شہر کے قریب ایک علاقہ ہے۔ اس نے 8 جنوری 2026 کو کرج میں جاری احتجاجی مظاہروں میں شرکت کے الزام میں گرفتار کیا گیا تھا۔ انسانی حقوق کی تنظیموں اور خاندان کے قریبی ذرائع کے مطابق، انہیں انتہائی تیزی سے سزا سنائی گئی۔
 
گرفتاری کے محض دو دن کے اندر عدالت نے انہیں سزائے موت سنا دی۔ نہ تو اسے کسی وکیل سے ملنے کی اجازت دی گئی اور نہ ہی باقاعدہ مقدمے کا موقع فراہم کیا گیا۔
 
11 جنوری (پیر) کو خاندان کو اطلاع دی گئی کہ سزا آج یعنی 14 جنوری 2026 کو پھانسی کے ذریعے نافذ کی جائے گی۔ خاندان کو صرف 10 منٹ کے لیے ان سے ملاقات کی اجازت دی گئی، جسے آخری ملاقات قرار دیا گیا۔
 
 
عرفان پر بنیادی طور پر احتجاج میں شامل ہونے کا الزام ہے اور بعض رپورٹس کے مطابق اس پر ،خدا کے خلاف جنگ چھیڑنے، (محاربہ) کا الزام بھی عائد کیا گیا ہے، جو ایران میں سزائے موت کے زمرے میں آنے والا جرم ہے۔ خاندان کا کہنا ہے کہ عرفان کوئی بڑے سیاسی کارکن نہیں تھے، بلکہ نوجوان نسل کا حصہ تھے جو ملک کی موجودہ صورتحال سے ناراض تھی۔
 
ایران کے رویّے پر ٹرمپ کی سخت تنقید
 
یہ معاملہ اس لیے بھی اہم ہے کہ یہ موجودہ احتجاجی تحریک سے جڑی پہلی پھانسی ہو سکتی ہے۔ انسانی حقوق کی تنظیمیں اسے نہایت تیز، غیر شفاف اور بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی قرار دے رہی ہیں۔
 
امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے بھی خبردار کیا ہے کہ اگر ایران نے مظاہرین کو پھانسی دی تو امریکہ ،بہت سخت کارروائی، کرے گا اور مظاہرین کے لیے مدد راستے میں ہے۔
 
پورے ملک میں حکومت مخالف مظاہرے
 
یہ احتجاج 28 دسمبر 2025 کو تہران کے گرینڈ بازار میں مہنگائی، ایرانی ریال کی قدر میں کمی اور ضروری اشیاء کی قیمتوں میں اضافے کے خلاف شروع ہوئے تھے۔ جلد ہی یہ مظاہرے پورے ملک میں پھیل گئے اور حکومت مخالف نعرے لگنے لگے۔
 
 
ہلاکتیں، گرفتاریاں اور بلیک آؤٹ
 
انسانی حقوق کی تنظیموں جیسے ایران ہیومن رائٹس (IHRNGO)، ہینگاو آرگنائزیشن اور ہیومن رائٹس ایکٹیوسٹس نیوز ایجنسی (HRANA) کے مطابق، اب تک احتجاج کے دوران 2,500 سے زائد افراد مارے جا چکے ہیں۔ کئی رپورٹس میں ہلاکتوں کی تعداد 2,000 سے زائد بتائی گئی ہے، جن میں بچے بھی شامل ہیں۔