یمن کے دارالحکومت صنعا میں حوثی حامیوں نے ملک کے مغربی ساحل پر سعودی حمایت یافتہ افواج کے خلاف اپنی فوجی کامیابی کا جشن منایا۔ حوثی باغیوں کی جانب سے دعویٰ کیا گیا ہے کہ ایک ہفتے تک جاری رہنے والی کارروائی کے بعد انہوں نے بحیرہ احمر کے پورے ساحلی علاقے اور تین اہم جزائر پر کنٹرول حاصل کر لیا ہے۔
حوثی گروپ ایران کی حمایت حاصل ہونے کے باعث پہلے ہی خطے میں ایک اہم عسکری قوت کے طور پر دیکھا جاتا ہے۔ اگر مغربی ساحل پر ان کی تازہ پیش قدمی کے دعوے درست ثابت ہوتے ہیں تو اس سے یمن کی جنگ کے ساتھ ساتھ خطے کی کشیدہ صورتحال میں بھی ایک نیا محاذ بن سکتا ہے۔ یہ پیش رفت خاص طور پر آبنائے باب المندب کے قریب اہم سمندری راستوں کے حوالے سے اہم سمجھی جا رہی ہے۔ باب المندب دنیا کے اہم بحری راستوں میں شامل ہے اور یہاں کسی بھی قسم کی کشیدگی کا اثر بین الاقوامی تجارت اور توانائی کی ترسیل پر پڑ سکتا ہے۔
میڈیا رپورٹ کے مطابق حوثیوں کی اس پیش قدمی کے بعد سعودی عرب کی تیل کی برآمدات کو بھی مزید خطرات لاحق ہونے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔ حملے کے بعد سعودی عرب نے ایک اہم پائپ لائن کو بند کر دیا۔ سعودی وزارت توانائی کے مطابق پائپ لائن کو ایک روز قبل ہونے والے حملے کے بعد احتیاطی اقدام کے طور پر بند کیا گیا۔ تجزیہ کاروں کے مطابق بحیرہ احمر اور باب المندب کے قریب حوثیوں کی بڑھتی ہوئی موجودگی خطے میں توانائی اور عالمی جہاز رانی کے لیے ایک اہم چیلنج بن سکتی ہے۔ اس علاقے سے گزرنے والے تجارتی اور توانائی کے راستے عالمی منڈیوں کے لیے خاص اہمیت رکھتے ہیں۔
دوسری جانب، حوثیوں کی اس کارروائی کو ایران اور سعودی عرب کے درمیان وسیع تر علاقائی کشمکش کے تناظر میں بھی دیکھا جا رہا ہے۔ اگر صورتحال مزید بگڑتی ہے تو تیل اور گیس کی عالمی قیمتوں پر دباؤ بڑھنے کا امکان پیدا ہو سکتا ہے۔ حوثی گروپ کی جانب سے اسے بڑی فوجی کامیابی قرار دیا جا رہا ہے۔ فی الحال سعودی عرب کی جانب سے پائپ لائن بند کیے جانے کی تصدیق کو اس صورتحال کا ایک اہم ردعمل سمجھا جا رہا ہے۔