ہندوستان نے جوہری صلاحیت سے لیس اگنی3 بیلسٹک میزائل کا کامیاب تجربہ کیا۔ سرکاری ذرائع کے مطابق یہ میزائل تین ہزار کلومیٹر دور تک کے اہداف کو نشانہ بنانے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ یہ میزائل سطح سے سطح پر مار کرنے والا ہے۔ اور است اسٹریٹیجک فورسز کمانڈ کے اہلکاروں نے موبائل لانچر سے معمول کی تربیتی مشق کے تحت داغا۔ حکام نے بتایا کہ تجربہ مکمل طور پر کامیاب رہا۔ اور تمام تکنیکی اہداف حاصل کر لیے گئے۔ جمعہ کے روز اوڈیشہ کے ساحل کے قریب چانڈی پور میں یہ کارنامہ انجام دیا گیا۔ میزائل کا یہ تجربہ ہندوستان کی دفاعی تیاریوں اور قابلِ اعتماد صلاحیتوں کا مظہر قرار دی جا رہی ہے۔
کچھ چینی شہر بھی رینج میں
اگنی 3 میزائل کو موبائل لانچر سے فائر کیا جا سکتا ہے۔ اس میزائل کی رینج میں نہ صرف پاکستان بلکہ چین کے کچھ شہر بھی شامل ہیں۔ آج کے کامیاب تجربے کے بعد بھارتی وزیر دفاع راج ناتھ سنگھ نے ڈیفنس ریسرچ اینڈ ڈیولپمنٹ آرگنائزیشن (DRDO) اور ٹیسٹ میں شامل تمام ٹیموں کو مبارکباد دی۔ ڈی آر ڈی او کے چیئرمین نے پورے ڈی آر ڈی او اور ٹیسٹ میں شامل تمام ٹیموں کو مبارکباد دی۔ قابل ذکر ہے کہ نئے سال کے آغاز سے ہی ہندوستان نے بیلسٹک سیریز سے لے کر کروز سیریز تک مختلف میزائلوں کا تجربہ کرنا شروع کر دیا ہے۔
آنے والے دنوں میں ہندوستان کئی نئے اور پرانے میزائلوں کا تجربہ کرے گا جن میں کئی جدید ترین میزائل بھی شامل ہیں۔ دنیا کے کئی ممالک بھارت سے میزائل ٹیکنالوجی خریدنے کے خواہشمند ہیں اور کئی ممالک پہلے ہی بھارت سے میزائل خریدنے کی خواہش کا اظہار کر چکے ہیں۔ بھارت اپنے تمام میزائلوں کے تیز رفتار ٹیسٹ کرنے کی تیاری کر رہا ہے، چاہے وہ بیلسٹک ہو یا کروز میزائل۔ یہ بات قابل ذکر ہے کہ COVID-19 وبائی مرض کے دوران بھی، "میزائلوں کی سانسیں رکی ہوئی تھیں۔" اس وقت بھی بھارت نے دو درجن سے زائد بھاری اور جدید ترین میزائلوں کا کامیاب تجربہ کر کے اپنی طاقت کا مظاہرہ کیا۔