امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے جمعہ کو ایک ایگزیکٹو آرڈر پر دستخط کیے جس میں اعلان کیا گیا کہ بھارت نے روس سے تیل کی براہ راست یا بالواسطہ خریداری روکنے کا وعدہ کیا ہے۔ اس کے نتیجے میں بھارتی اشیا پر عائد اضافی 25 فیصد ٹیرف 7 فروری 2026 سے ختم کر دیا گیا ہے۔
ٹرمپ کے ایگزیکٹو آرڈر کے مطابق، بھارت نے روس سے تیل کی درآمد روکنے کا عزم ظاہر کیا ہے، امریکہ سے توانائی کی مصنوعات خریدنے کا وعدہ کیا ہے، اور اگلے 10 سالوں میں امریکہ کے ساتھ دفاعی تعاون کو وسعت دینے کے لیے ایک فریم ورک پر اتفاق کیا ہے۔
یہ اقدام اس ہفتے اعلان کیے گئے امریکہ-بھارت تجارتی معاہدے کو نافذ کرنے کا حصہ ہے۔ اس سے پہلے اگست 2025 میں امریکہ نے بھارت کی روس سے خام تیل کی خریداری پر 25 فیصد جوابی ٹیرف اور اضافی 25 فیصد ٹیرف عائد کیا تھا، جس کی وجہ سے کل ٹیرف 50 فیصد تک پہنچ گیا تھا۔ اب اضافی 25 فیصد ٹیرف ہٹنے کے بعد موثر ٹیرف ریٹ 18 فیصد رہ گیا ہے۔
وائٹ ہاؤس کے جاری کردہ آرڈر میں کہا گیا ہے کہ یہ حکم 7 فروری 2026 کو صبح 10:30 بجے سے نافذ العمل ہوگا۔ اس کے بعد، بھارت سے امریکہ میں درآمد کی جانے والی مصنوعات پر 25 فیصد اضافی ٹیرف لاگو نہیں ہوگا۔
اگر بھارت دوبارہ روس سے تیل کی درآمد شروع کرتا ہے تو ٹیرف دوبارہ نافذ کیا جا سکتا ہے، جیسا کہ آرڈر میں وارننگ دی گئی ہے۔ یہ قدم دونوں ممالک کے درمیان تجارتی تعلقات کو بہتر بنانے اور باہمی مفادات پر مبنی معاہدے کی طرف ایک اہم پیش رفت ہے۔