جھارکھنڈ میں جے پی ایس سی (JPSC) اور جے ایس ایس سی (JSSC) بھرتی امتحانات میں مبینہ بے ضابطگیوں، پیپر لیک اور بدعنوانی کے خلاف جاری طلبہ تحریک نے بدھ کے روز اس وقت نیا رخ اختیار کر لیا جب رانچی میں قانون ساز اسمبلی کی جانب مارچ کے دوران ہنگامہ آرائی دیکھنے میں آئی۔
مظاہرین اسمبلی کی طرف پیش قدمی کر رہے تھے اور بھرتی کے عمل میں شفافیت، امتحانات کی منسوخی اور اصلاحات کا مطالبہ کر رہے تھے۔ اسی دوران آل انڈیا اسٹوڈنٹس ایسوسی ایشن (AISA) کی قومی صدر اور طالب علم رہنما نیہا بورا پر نامعلوم افراد کی جانب سے سیاہی پھینک دی گئی۔
اس واقعے کے بعد احتجاجی مقام پر کچھ دیر کے لیے کشیدگی پھیل گئی۔ عینی شاہدین کے مطابق سیاہی پھینکنے کے بعد مظاہرین اور وہاں موجود افراد میں افراتفری مچ گئی، جبکہ پولیس نے فوری مداخلت کرتے ہوئے صورتحال کو قابو میں لینے کی کوشش کی۔
ابتدائی اطلاعات کے مطابق ابھی تک یہ واضح نہیں ہو سکا کہ سیاہی پھینکنے والے افراد مظاہرین میں شامل تھے یا کوئی سماج دشمن عناصر تھے جنہوں نے احتجاج کو متاثر کرنے کی کوشش کی۔ پولیس نے واقعے کی تحقیقات شروع کر دی ہیں اور ذمہ دار افراد کی شناخت کے لیے موقع پر موجود ویڈیوز اور سی سی ٹی وی فوٹیج کا جائزہ لیا جا رہا ہے۔
نیہا بورا اور طلبہ تنظیموں نے اس واقعے کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا کہ اس طرح کے حملے طلبہ کی آواز کو دبانے کی کوشش ہیں، لیکن وہ اپنے مطالبات سے پیچھے نہیں ہٹیں گے۔ انہوں نے امتحانی نظام میں شفافیت، مبینہ پیپر لیک کی غیر جانبدارانہ تحقیقات اور نوجوانوں کو انصاف فراہم کرنے کا مطالبہ دہرایا۔
واضح رہے کہ گزشتہ کئی دنوں سے جھارکھنڈ میں طلبہ جے پی ایس سی اور جے ایس ایس سی کی بھرتی سے متعلق مبینہ بے ضابطگیوں کے خلاف مسلسل احتجاج کر رہے ہیں۔ احتجاج کے دوران متعدد طلبہ تنظیمیں، سماجی کارکن اور سیاسی شخصیات بھی ان کے حق میں آواز بلند کر چکی ہیں۔ تازہ واقعے نے اس تحریک کو مزید حساس بنا دیا ہے اور ریاست میں سیاسی و سماجی بحث ایک بار پھر تیز ہو گئی ہے۔