• News
  • »
  • قومی
  • »
  • لکھنؤ-کانپور ایکسپریس وے پر 18 دن میں 84 سِنک ہول، تعمیراتی کمپنی پر کارروائی

لکھنؤ-کانپور ایکسپریس وے پر 18 دن میں 84 سِنک ہول، تعمیراتی کمپنی پر کارروائی

    Reported By: Munsif News Bureau | Edited By: MD Shahbaz | Last Updated: Aug 07, 2026 IST

لکھنؤ-کانپور ایکسپریس وے پر 18 دن میں 84 سِنک ہول، تعمیراتی کمپنی پر کارروائی
لکھنؤ-کانپور ایکسپریس وے کے افتتاح کے موقع پر مرکزی وزیر ٹرانسپورٹ نے اس منصوبے کو جدید انفراسٹرکچر کی ایک بڑی کامیابی قرار دیا تھا۔ تاہم افتتاح کے محض 18 دن بعد ہی ایکسپریس وے کی تعمیراتی معیار پر سنگین سوالات کھڑے ہو گئے ہیں۔
 
اطلاعات کے مطابق 63 کلومیٹر طویل اس ایکسپریس وے پر صرف اٹھارہ دن کے اندر 84 مختلف مقامات پر سِنک ہول (زمین دھنسنے کے واقعات) سامنے آئے ہیں۔ ان واقعات کے بعد سڑک کی مضبوطی اور تعمیراتی معیار پر تشویش بڑھ گئی ہے، جبکہ مسافروں کی حفاظت بھی ایک اہم مسئلہ بن گئی ہے۔
 
معاملے کی سنگینی کو دیکھتے ہوئے نیشنل ہائی ویز اتھارٹی آف انڈیا (NHAI) نے سخت کارروائی کرتے ہوئے تعمیراتی کمپنی PNC Infratech Limited کو 'نان پرفارمر' قرار دے دیا ہے۔
 
این ایچ اے آئی کی کارروائی کے تحت کمپنی کے تین سینئر عہدیداروں کو ان کے عہدوں سے ہٹا دیا گیا، جبکہ کمپنی پر آئندہ دو برس تک نئے منصوبوں میں حصہ لینے پر پابندی عائد کر دی گئی ہے۔
 
ذرائع کے مطابق حکام ایکسپریس وے پر پیدا ہونے والی تکنیکی خرابیوں کی تفصیلی جانچ کر رہے ہیں تاکہ یہ معلوم کیا جا سکے کہ سِنک ہولز کی اصل وجہ ناقص تعمیراتی معیار، انجینئرنگ کی خامیاں یا دیگر تکنیکی عوامل تھے۔
 
اس واقعے نے ایک بار پھر ملک میں بڑے انفراسٹرکچر منصوبوں کے معیار، نگرانی اور جوابدہی کے نظام پر سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ عوامی سرمایہ سے تعمیر ہونے والے منصوبوں میں اعلیٰ معیار کو یقینی بنانا اور تعمیراتی کمپنیوں کی سخت نگرانی ناگزیر ہے تاکہ مستقبل میں اس طرح کے واقعات سے بچا جا سکے۔