اسرائیل نے غزہ کی پٹی پر زبردست فضائی حملہ کیا۔ اس بار اسرائیل نے براہ راست حماس کے اعلیٰ فوجی کمانڈر کو نشانہ بنایا۔ اگرچہ دونوں فریقوں کے درمیان جنگ بندی موجود ہے لیکن اسرائیل غزہ میں حملے جاری رکھے ہوئے ہے۔ اس نئے اور خطرناک حملے نے ایک بار پھر پورے مغربی ایشیا میں خوف و ہراس کی فضا پیدا کر دی ہے۔اسرائیلی فوج نے غزہ شہر پر یہ حملہ کیا۔ اسرائیلی وزیر اعظم بنجمن نیتن یاہو اور وزیر دفاع نے سرکاری طور پر حملے کی تصدیق کی ہے۔
انہوں نے بتایا کہ فضائی حملے میں حماس کے عسکری ونگ کے سربراہ عزالدین کو براہ راست نشانہ بنایا گیا۔ تاہم ابھی تک یہ واضح نہیں ہے کہ عزالدین ہلاک ہوئے یا نہیں۔ حماس نے ابھی تک اس بڑے حملے یا اس کے کمانڈر کی حیثیت پر سرکاری طور پر کوئی تبصرہ نہیں کیا ہے۔غزہ کے محکمہ صحت کے حکام کے مطابق اسرائیل نے کم از کم دو بڑے فضائی حملے کیے ہیں۔ اس خوفناک حملے میں کئی بے گناہ لوگوں کی جانیں گئیں۔ ہسپتال کے ریکارڈ سے پتہ چلتا ہے کہ تین سے سات افراد ہلاک اور 20 سے زائد افراد شدید زخمی ہیں۔
وہیں دوسری جانب امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے کہاکہ ابو بلال کو ، جو عالمی سطح پر داعش کا دوسرا کمانڈر ہے، امریکی اور نائیجیرین فورسز کے مشترکہ آپریشن میں ختم کردیا گیا ہے۔ ٹرمپ نے کہاکہ میری ہدایت پر بہادر امریکی افواج اور نائجریا کی مسلح افواج نے میدان جنگ سے دنیا کے سب سے زیادہ سرگرم دہشت گرد ابوبلال کو ختم کرنے کیلئے ایک انتہائی منصوبہ بند اور انتہائی پیچیدہ مشن کو شاندار طریقہ سے انجام دیاہے۔ ٹرمپ نے کہاکہ ابوبلال نے سمجھا تھاکہ وہ افریقہ میں چھپ سکتا ہے لیکن ہم نے اسے ختم کردیاہے۔