نیٹ یوجی 2026 پیپر لیک کیس کے تنازع کے درمیان نیشنل ٹیسٹنگ ایجنسی (NTA) کی ساکھ کو ایک اور بڑا جھٹکا لگا ہے۔ 'یونائیٹڈ ڈاکٹرز فرنٹ' نے سپریم کورٹ میں ایک مفادِ عامہ کی عرضی (PIL) دائر کی ہے، جس میں این ٹی اے کو فوری طور پر تحلیل کرنے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔
عرضی میں مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ موجودہ این ٹی اے، جو 'سوسائٹیز رجسٹریشن ایکٹ 1860' کے تحت کام کر رہی ہے، ملک کے اتنے بڑے امتحانات شفاف طریقے سے کرانے میں ناکام رہی ہے۔ اس لیے اسے ختم کر کے پارلیمنٹ کے ایکٹ (قانون) کے ذریعے ایک نئی آئینی اور خودمختار قومی امتحانی تنظیم قائم کی جانی چاہیے۔
پارلیمنٹ کے تئیں براہِ راست جوابدہی کا مطالبہ:
عرضی گزاروں نے سپریم کورٹ سے استدعا کی ہے کہ وہ مرکزی حکومت کو ہدایت جاری کرے تاکہ ایک ایسی نئی قومی امتحانی تنظیم بنائی جائے جس کے پاس ٹھوس قانونی اختیارات ہوں۔امتحانات کے انعقاد میں شفافیت کو یقینی بنانے کے لیے سخت ضوابط وضع کیے جائیں۔یہ نئی تنظیم کسی سوسائٹی کے بجائے براہِ راست پارلیمنٹ کے سامنے جوابدہ ہونی چاہیے تاکہ مستقبل میں پیپر لیک جیسے واقعات کو روکا جا سکے۔
ماسٹر مائنڈ پی وی کلکرنی سے پوچھ گچھ میں بڑے انکشافات:
دوسری طرف، سی بی آئی (CBI) کی جانب سے نیٹ پیپر لیک کیس کی تحقیقات تیز کر دی گئی ہیں۔ کیس کے مبینہ ماسٹر مائنڈ اور لیکچرار پی وی کلکرنی سے پوچھ گچھ کے بعد کئی چونکا دینے والے حقائق سامنے آئے ہیں،تفتیشی ایجنسیوں کے مطابق، اس پورے نیٹ ورک میں پی وی کلکرنی اور منیشا واگھمارے کے علاوہ دو مزید لیکچرار شامل تھے، جو این ٹی اے کے ساتھ نیٹ امتحان کے انتظام و انقاد سے وابستہ تھے۔سی بی آئی ان دونوں فرار لیکچراروں کی گرفتاری کے لیے پونے اور لاتور میں مسلسل چھاپے مار رہی ہے۔
طالب علموں کو نوٹ بک میں لکھوائے گئے جوابات:
تحقیقات میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ پونے کے ایک انسٹی ٹیوٹ میں پی وی کلکرنی، منیشا واگھمارے اور ان کے ساتھیوں نے امتحانات سے قبل ہی کچھ منتخب طلبہ کو نیٹ کے سوالات اور ان کے درست جوابات ایک نوٹ بک میں باقاعدہ لکھوائے تھے۔
بینک اکاؤنٹ منجمد :
سی بی آئی کی جانچ میں ایک اور بڑا مالیاتی انکشاف ہوا ہے کہ منیشا واگھمارے کے نام پر ایک نیا بینک اکاؤنٹ کھولا گیا تھا، جس میں پیپر لیک کے عوض طلبہ کے اہل خانہ سے لاکھوں روپے منتقل (Transfer) کروائے گئے تھے۔ سی بی آئی نے اس مشکوک بینک اکاؤنٹ کو منجمد کر دیا ہے اور رقم کے لین دین کے تمام ریکارڈز کی باریک بینی سے تفتیش کی جا رہی ہے۔