سماج وادی پارٹی کے سینئر لیڈر اعظم خان کی مشکلات میں مسلسل اضافہ ہوتا جا رہا ہے۔ اتر پردیش کے ضلع رام پور میں واقع ایم پی-ایم ایل اے کورٹ نے 2019 کے لوک سبھا انتخابات کے دوران دیے گئے ایک متنازع بیان کے معاملے میں انہیں مجرم قرار دے دیا ہے۔ عدالت کی جانب سے سزا کی مدت اور دیگر تفصیلات کا اعلان جلد کیے جانے کی توقع ہے۔
یہ معاملہ اس بیان سے متعلق ہے جس میں اعظم خان نے انتخابی مہم کے دوران سرکاری افسران کے بارے میں کہا تھا، “یہ صرف تنخواہ لینے والے ملازم ہیں، میں ان سے اپنے جوتے چمکاؤں گا۔”اس بیان کے بعد ان کے خلاف مقدمہ درج کیا گیا تھا، جس کی سماعت گزشتہ کئی برسوں سے جاری تھی۔ ہفتہ 16 مئی کو عدالت نے فیصلہ سناتے ہوئے اعظم خان کو قصوروار قرار دے دیا۔
قانونی ماہرین کے مطابق اگر عدالت کی جانب سے دو سال یا اس سے زیادہ قید کی سزا سنائی جاتی ہے تو اس کے سیاسی اثرات بھی سامنے آ سکتے ہیں، جن میں انتخاب لڑنے پر پابندی شامل ہو سکتی ہے۔ تاہم حتمی صورتحال سزا کے اعلان کے بعد ہی واضح ہوگی۔
اعظم خان اس وقت پہلے ہی کئی قانونی مقدمات کا سامنا کر رہے ہیں۔ رپورٹس کے مطابق ان پر 100 سے زائد مقدمات درج ہیں۔ اب تک وہ 11 مقدمات میں راحت حاصل کر چکے ہیں، جبکہ کم از کم چھ مقدمات میں انہیں سزا سنائی جا چکی ہے۔
فی الحال اعظم خان اپنے بیٹے عبداللہ اعظم خان کے ساتھ رام پور ڈسٹرکٹ جیل میں بند ہیں۔ دونوں کے خلاف دو پین کارڈ رکھنے کے الزام میں قانونی کارروائی جاری ہے اور اسی مقدمے کے سلسلے میں وہ عدالتی حراست میں ہیں۔
سیاسی حلقوں میں اس فیصلے کو سماج وادی پارٹی کے لیے ایک اور بڑا دھچکا قرار دیا جا رہا ہے۔ اپوزیشن جماعتوں کا کہنا ہے کہ اعظم خان کو مسلسل قانونی مقدمات میں گھیرنے کی کوشش کی جا رہی ہے، جبکہ دوسری جانب بی جے پی اور اس کے حامیوں کا مؤقف ہے کہ قانون سب کے لیے برابر ہے اور عدالتیں شواہد کی بنیاد پر فیصلے دے رہی ہیں۔
اعظم خان طویل عرصے تک اتر پردیش کی سیاست کا اہم چہرہ رہے ہیں اور رام پور میں ان کا خاصا اثر و رسوخ مانا جاتا ہے۔ تاہم حالیہ برسوں میں قانونی مسائل نے ان کی سیاسی سرگرمیوں کو شدید متاثر کیا ہے۔