امریکی صدر ٹرمپ جمعہ کو اپنے دورۂ چین سے واپس واشنگٹن پہنچ گئے، جہاں اب انہیں ایران کے حوالے سے ایک اہم اور حساس فیصلہ درپیش ہے۔ ایران کے جوہری پروگرام اور آبنائے ہرمز کے اطراف بڑھتی ہوئی کشیدگی کے باعث امریکہ ایک بار پھر ممکنہ فوجی کارروائی پر غور کر رہا ہے۔
امریکی اخبار دی نیویارک ٹائمز کی رپورٹ کے مطابق صدر ٹرمپ کے سینئر مشیروں نے ایران کے خلاف ممکنہ فوجی آپریشن کے لیے نیا منصوبہ تیار کر لیا ہے۔ رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ اگر صدر ٹرمپ اس نتیجے پر پہنچتے ہیں کہ سفارتی کوششیں مکمل طور پر ناکام ہو چکی ہیں تو امریکہ جلد ایران پر نئے حملے شروع کر سکتا ہے۔
ذرائع کے مطابق پینٹاگون کے حکام "آپریشن ایپک فیوری" کو دوبارہ فعال کرنے کی تیاری کر رہے ہیں۔ یہ آپریشن گزشتہ ماہ جنگ بندی کے اعلان کے بعد عارضی طور پر روک دیا گیا تھا، تاہم اب اسے ایک نئے خفیہ کوڈ نام کے تحت دوبارہ لانچ کیے جانے کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے۔
ایران کی امن تجویز مسترد
صدر ٹرمپ نے ابھی تک کسی حتمی فوجی کارروائی کی منظوری نہیں دی، لیکن انہوں نے ایران کی حالیہ امن تجویز کو سختی سے مسترد کر دیا ہے۔ بیجنگ سے واپسی کے دوران ایئر فورس ون میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے ٹرمپ نے کہا میں نے تجویز دیکھی، اور اگر مجھے پہلی لائن پسند نہیں آئی تو میں اسے باہر پھینک دیتا ہوں۔ان کے اس بیان کو ایران کے ساتھ مذاکرات میں سخت مؤقف کی علامت قرار دیا جا رہا ہے۔
شی جن پنگ کے ساتھ ایران پر بات چیت
صدر ٹرمپ نے اس بات کی بھی تصدیق کی کہ چینی صدر Xi Jinping کے ساتھ ملاقات میں ایران کا معاملہ زیر بحث آیا۔ تاہم انہوں نے واضح کیا کہ انہوں نے چین سے ایران پر دباؤ ڈالنے کی کوئی درخواست نہیں کی۔
سیاسی مبصرین کے مطابق امریکہ اور ایران کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی نہ صرف مشرق وسطیٰ بلکہ عالمی معیشت اور تیل کی منڈیوں پر بھی گہرے اثرات مرتب کر سکتی ہے، خاص طور پر اگر آبنائے ہرمز میں صورتحال مزید خراب ہوتی ہے۔