جموں و کشمیر کے سانبہ ضلع میں نیشنل ہیلتھ مشن (NHM) کے ملازمین کی 72 گھنٹے کی ہڑتال جاری ہے۔ ملازمین نے تنخواہوں میں اضافے، ملازمت کے بہتر نظام اور ریٹائرمنٹ کے بعد مالی فوائد سمیت مختلف مطالبات کو لے کر احتجاج شروع کیا ہے۔ سانبہ کے علاوہ دیگر اضلاع اور بلاکس میں بھی ہیلتھ ورکرز بڑی تعداد میں مظاہروں میں شامل ہیں۔
مظاہرین کا کہنا ہے کہ وہ اپنے مطالبات کو لے کر کافی عرصے سے حکومت اور متعلقہ حکام سے رابطے میں ہیں، لیکن انہیں عملی اقدامات کے بجائے صرف یقین دہانیاں ہی ملتی رہی ہیں۔ ملازمین کے مطابق مسلسل انتظار کے بعد وہ ہڑتال پر جانے کے لیے مجبور ہوئے ہیں۔
NHM ملازمین کے اہم مطالبات میں دیگر ریاستوں کے ملازمین کے مطابق تنخواہ کے ڈھانچے پر نظرثانی، ایک واضح اور ٹھوس روزگار پالیسی کی تشکیل اور سماجی تحفظ کی سہولیات فراہم کرنا شامل ہے۔ ملازمین ای پی ایف، لائف انشورنس اور ریٹائرمنٹ کے بعد مالی امداد جیسے فوائد کا بھی مطالبہ کر رہے ہیں۔ مظاہرین کا کہنا ہے کہ صحت کے شعبے میں اہم ذمہ داریاں ادا کرنے کے باوجود انہیں ملازمت کے مستقبل اور سماجی تحفظ کے حوالے سے مناسب سہولیات حاصل نہیں ہیں۔
جموں: نوجوانوں میں فوجی بھرتی کا نیا جنون
دوسری جانب جموں و کشمیر کے سرحدی علاقوں میں نوجوانوں کا ایک مختلف رجحان بھی سامنے آرہا ہے۔ یہاں بڑی تعداد میں نوجوان فوج اور سیکیورٹی فورسز میں بھرتی کے لیے سخت جسمانی تربیت کر رہے ہیں۔
سرحدی علاقوں کے نوجوان صبح سویرے دوڑ، ورزش اور دیگر جسمانی مشقوں کے ذریعے خود کو فوجی بھرتی کے لیے تیار کر رہے ہیں۔ ان نوجوانوں کے لیے سیکیورٹی فورسز میں شمولیت صرف روزگار کا ذریعہ نہیں بلکہ ایک بہتر اور باوقار کیریئر کا موقع بھی بن رہی ہے۔
یہ نوجوان اپنے مقصد کو حاصل کرنے کے لیے سخت محنت کر رہے ہیں اور ان کا کہنا ہے کہ وہ فوج میں شامل ہو کر اپنے مستقبل کو بہتر بنانے کے ساتھ ملک کی خدمت بھی کرنا چاہتے ہیں۔ یوں ایک طرف NHM ملازمین اپنے حقوق اور مستقبل کے تحفظ کے لیے احتجاج کر رہے ہیں، تو دوسری طرف سرحدی علاقوں کے نوجوان محنت اور تربیت کے ذریعے اپنے لیے نئے مواقع تلاش کر رہے ہیں۔