• News
  • »
  • جموں وکشمیر
  • »
  • پینگونگ جھیل پر آف روڈنگ مہنگی پڑ گئی، لداخ میں پہلی بار بھاری جرمانے

پینگونگ جھیل پر آف روڈنگ مہنگی پڑ گئی، لداخ میں پہلی بار بھاری جرمانے

    Reported By: Munsif News Bureau | Edited By: MD Shahbaz | Last Updated: Jun 28, 2026 IST

پینگونگ جھیل پر آف روڈنگ مہنگی پڑ گئی، لداخ میں پہلی بار بھاری جرمانے
لداخ میں پہلی بار وائلڈ لائف (تحفظ) ایکٹ 1972 کے تحت پینگونگ جھیل اور دیگر محفوظ جنگلی حیات کے علاقوں میں غیر قانونی آف روڈنگ کرنے والے سیاحوں کے خلاف سخت کارروائی کی گئی ہے۔ محکمہ جنگلی حیات نے چار گاڑیوں پر فی گاڑی 50 ہزار روپے کے حساب سے مجموعی طور پر دو لاکھ روپے کا جرمانہ عائد کیا ہے۔
 
محکمہ وائلڈ لائف کے مطابق 26 جون کو کی گئی کارروائی میں ہماچل پردیش، پنجاب، چندی گڑھ اور اتر پردیش سے تعلق رکھنے والے سیاحوں کی گاڑیوں کو ضبط کیا گیا۔ جرمانے کی مکمل ادائیگی کے بعد ہی گاڑیاں مالکان کے حوالے کی گئیں۔
 
سرکاری ترجمان نے کہا کہ یہ اقدام لداخ کے نازک ماحولیاتی نظام، پینگونگ جھیل اور خطرے سے دوچار جنگلی حیات کے تحفظ کے لیے انتظامیہ کے عزم کی عکاسی کرتا ہے۔ حالیہ برسوں میں آف روڈنگ اور خطرناک اسٹنٹ کے واقعات میں اضافہ ہوا ہے، تاہم پہلی مرتبہ اس نوعیت کی سخت قانونی کارروائی عمل میں لائی گئی ہے۔
 
یہ خلاف ورزیاں پینگونگ جھیل کے میراک اور لوکنگ، ہینلے کے نوربو لا اور نوبرا ویلی کے سمور علاقوں میں رپورٹ ہوئیں، جو محفوظ جنگلی حیات کے حساس علاقے ہیں۔
 
تفصیلات کے مطابق 23 جون کو ایک مہندرا تھار گاڑی کو میراک کے قریب پینگونگ جھیل کے اندر پانی میں اسٹنٹ کرتے ہوئے پایا گیا۔ حکام کے مطابق ڈرائیور نے جان بوجھ کر گاڑی جھیل میں اتاری، جس سے جنگلی حیات کے قدرتی مسکن کو نقصان پہنچا اور پانی آلودہ ہوا۔ بعد ازاں گاڑی ضبط کر لی گئی۔
 
اسی طرح 21 جون کو سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والی ایک ویڈیو میں ایک ہنڈائی کریٹا کو لوکنگ کے قریب چانگتھانگ کولڈ ڈیزرٹ وائلڈ لائف سینکچری میں آف روڈنگ کرتے ہوئے دیکھا گیا۔ محکمہ جنگلی حیات نے کارروائی کرتے ہوئے گاڑی کو چنگلہ پاس کے قریب روک کر ضبط کر لیا۔
 
20 جون کو ایک اور ویڈیو میں مہندرا تھار کو قراقرم (نوبرا-شیوک) وائلڈ لائف سینکچری کے اندر ندی میں چلایا جاتا ہوا دکھایا گیا، جس سے محفوظ ماحول کو نقصان پہنچا۔ پولیس اور محکمہ جنگلی حیات کی مشترکہ کارروائی کے بعد گاڑی کو کھارو کے مقام پر ضبط کیا گیا۔
 
اسی طرح 17 جون کو ایک ٹویوٹا فارچیونر کی ویڈیو منظر عام پر آئی، جس میں گاڑی کو نوربو لا کے قریب چانگتھانگ کولڈ ڈیزرٹ وائلڈ لائف سینکچری کے اندر آف روڈنگ کرتے ہوئے اور مبینہ طور پر تبتی غزال کا پیچھا کرتے ہوئے دیکھا گیا۔ پولیس اور وائلڈ لائف اہلکاروں نے رات بھر تلاش کے بعد اگلی صبح ہینلے کے ایک ہوم اسٹے سے گاڑی برآمد کر لی۔
 
تمام چاروں گاڑی مالکان نے 50،50 ہزار روپے جرمانہ ادا کرنے کے بعد اپنی گاڑیاں واپس حاصل کیں۔
 
محکمہ جنگلی حیات کے مطابق یہ کارروائیاں معمول کی گشت اور سوشل میڈیا پر سامنے آنے والی ویڈیوز کی نگرانی کے بعد عمل میں لائی گئیں، جن کی رپورٹ لیفٹیننٹ گورنر سیکریٹریٹ کو بھی پیش کی گئی۔
 
لداخ کے لیفٹیننٹ گورنر وی کے سکسینہ نے کہا کہ لداخ دنیا بھر کے سیاحوں کا خیرمقدم کرتا ہے، تاہم ہر سیاح کی ذمہ داری ہے کہ وہ ماحول دوست طرز عمل اختیار کرے اور محفوظ جنگلی حیات کے علاقوں میں آف روڈنگ سے گریز کرے۔
 
انہوں نے خبردار کیا کہ محفوظ علاقوں میں آف روڈ ڈرائیونگ وائلڈ لائف (تحفظ) ایکٹ 1972 کے تحت قابلِ سزا جرم ہے اور آئندہ بھی ایسے تمام خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف سخت قانونی کارروائی جاری رہے گی۔