• News
  • »
  • عالمی منظر
  • »
  • ایران۔اسرائیل کشیدگی کے درمیان لبنان کی سفارتی سرگرمیاں تیز

ایران۔اسرائیل کشیدگی کے درمیان لبنان کی سفارتی سرگرمیاں تیز

    Reported By: Munsif News Bureau | Edited By: Afreen Begum | Last Updated: Jun 22, 2026 IST

ایران۔اسرائیل کشیدگی کے درمیان لبنان کی سفارتی سرگرمیاں تیز
مشرقِ وسطیٰ میں ایران اور اسرائیل کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی کے باعث لبنان نے سفارتی کوششیں تیز کر دی ہیں۔ لبنانی صدر جوزف عون نے فرانس کے صدر ایمانوئل میکرون، امریکی ایلچی ٹام باراک اور قطر کے وزیر اعظم و وزیر خارجہ شیخ محمد بن عبدالرحمن آل ثانی سے رابطہ کر کے خطے میں امن و استحکام کے قیام پر زور دیا۔
 
لبنانی ایوانِ صدر کے مطابق ان رابطوں میں جنگ بندی کو برقرار رکھنے، کشیدگی میں کمی لانے اور اسرائیلی کارروائیوں کے ممکنہ پھیلاؤ کو روکنے کے طریقوں پر تفصیلی تبادلۂ خیال کیا گیا۔ صدر عون نے اس بات پر زور دیا کہ موجودہ صورتحال پورے خطے کے امن کے لیے خطرہ بن سکتی ہے اور اس کے سنگین نتائج لبنان سمیت کئی ممالک کو متاثر کر سکتے ہیں۔
 
رپورٹس کے مطابق فریقین نے جنگ بندی کے نفاذ کو یقینی بنانے کے لیے مشترکہ سفارتی اقدامات اور رابطہ کاری کے طریقۂ کار پر بھی غور کیا۔ بعض ذرائع کے مطابق ایک خصوصی رابطہ سیل یا بحران مینجمنٹ گروپ قائم کرنے کی تجویز بھی زیرِ غور آئی تاکہ صورتحال پر مسلسل نظر رکھی جا سکے۔
 
یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب ایران اور اسرائیل کے درمیان حالیہ کشیدگی نے عالمی برادری کو تشویش میں مبتلا کر رکھا ہے۔ اقوام متحدہ، یورپی ممالک اور خلیجی ریاستیں بھی مسلسل تحمل اور مذاکرات پر زور دے رہی ہیں۔ لبنان، جو ماضی میں علاقائی تنازعات کے اثرات کا سامنا کر چکا ہے، کسی بھی نئی جنگ یا عسکری تصادم سے بچنے کے لیے سرگرم سفارتی کردار ادا کر رہا ہے۔
 
سیاسی ماہرین کے مطابق صدر جوزف عون کے حالیہ رابطے اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ لبنان خطے میں استحکام برقرار رکھنے اور ممکنہ بحران کو روکنے کے لیے بین الاقوامی حمایت حاصل کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔ اگر سفارتی کوششیں کامیاب رہتی ہیں تو یہ نہ صرف لبنان بلکہ پورے مشرقِ وسطیٰ میں امن کے قیام کے لیے ایک اہم پیش رفت ثابت ہو سکتی ہے۔