خواتین کانگریس کی قومی صدر الکا لامبا کو راؤس ایونیو کورٹ سے بڑا قانونی جھٹکا لگا ہے۔ عدالت نے جنتر منتر پر خواتین کے ریزرویشن کے نفاذ کے مطالبے کو لے کر کیے گئے احتجاج سے متعلق مقدمے میں انہیں قصوروار قرار دے دیا ہے۔ اس معاملے میں سزا کے تعین سے متعلق دلائل 5 جون کو سنے جائیں گے۔
یہ معاملہ جولائی 2024 میں ہونے والے اس احتجاج سے جڑا ہے جس کی قیادت الکا لامبا نے کی تھی۔ احتجاج کے دوران خواتین کانگریس نے خواتین کے ریزرویشن اور اس کے مؤثر نفاذ کے مطالبات اٹھائے تھے۔ عدالت نے گزشتہ سماعت کے دوران یہ رائے دی تھی کہ الکا لامبا کے خلاف پہلی نظر میں مقدمہ بنتا ہے، جس کے بعد ان پر مجرمانہ الزامات عائد کیے گئے تھے۔
عدالتی کارروائی کے مطابق، کانگریس لیڈر پر سرکاری ملازمین کے ساتھ بدتمیزی، سرکاری فرائض میں رکاوٹ ڈالنے، قانونی احکامات کی خلاف ورزی اور عوامی راستہ متاثر کرنے جیسے الزامات لگائے گئے۔ مقدمہ بھارتیہ نیا سنہتا (بی این ایس) کی مختلف دفعات کے تحت چلایا گیا، اور 25 مئی 2026 کو عدالت نے انہیں قصوروار قرار دیا۔
فیصلے کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے الکا لامبا نے عدالتی کارروائی پر اپنا ردعمل بھی دیا۔ انہوں نے کہا کہ انہیں اس فیصلے کی توقع تھی اور ان کے مطابق یہ مقدمہ اس وقت شروع ہوا جب وہ خواتین کانگریس کی صدر کی حیثیت سے خواتین کے آئینی حقوق اور ریزرویشن کے نفاذ کے مطالبے کے لیے احتجاج کر رہی تھیں۔
الکا لامبا نے مزید کہا کہ وہ گزشتہ کئی مہینوں سے عدالت کے چکر لگا رہی تھیں اور ان کے مطابق ان کا مقصد خواتین کے حقوق اور تحفظ کے لیے آواز اٹھانا تھا۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ وہ اس فیصلے سے خوفزدہ نہیں ہیں اور 5 جون کو سزا سے متعلق سماعت کا سامنا کریں گی۔ اب اس معاملے میں سب کی نظریں آئندہ سماعت پر ہیں، جہاں عدالت سزا کی نوعیت اور مدت پر فیصلہ سنائے گی۔