Sunday, August 30, 2026 | 15 ربيع الأول 1448
  • News
  • »
  • عالمی منظر
  • »
  • نیویارک میں آر ایس ایس سربراہ کا خطاب، تنوع میں اتحاد پر زور

نیویارک میں آر ایس ایس سربراہ کا خطاب، تنوع میں اتحاد پر زور

    Reported By: Munsif News Bureau | Edited By: Afreen Begum | Last Updated: Aug 30, 2026 IST

نیویارک میں آر ایس ایس سربراہ کا خطاب، تنوع میں اتحاد پر زور
راشٹریہ سویم سیوک سنگھ (آر ایس ایس) کے سربراہ موہن بھاگوت نے امریکہ کے شہر نیویارک میں منعقدہ یونیورسل یکجہتی تقریب میں بھارتی نژاد افرادسے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ انہیں جس ملک میں وہ رہتے اور کام کرتے ہیں، اس کے ساتھ وفادار اور اپنی ذمہ داریوں کے پابند رہنا چاہیے۔ ساتھ ہی انہوں نے اپنی پیدائش کی سرزمین بھارت سے ملنے والی اقدار کو بھی اپنے ساتھ رکھنے پر زور دیا۔ نیویارک کے میڈیسن اسکوائر گارڈن میں ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے موہن بھاگوت نے کہا کہ بیرون ملک رہنے والے بھارتی نژاد افراد کو سب سے پہلے اپنے موجودہ ملک کے ذمہ داریاں پوری کرنی چاہئیں۔
 

بھارت اور موجودہ ملک دونوں سے تعلق

موہن بھاگوت نے مثال دیتے ہوئے کہا کہ جو لوگ امریکہ میں رہتے، کام کرتے اور کماتے ہیں، وہ امریکہ کے شہری اور معاشرے کا حصہ ہیں، اس لیے انہیں امریکہ کے ساتھ وفاداری کا مظاہرہ کرنا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ بھارتی نژاد افراد کو اپنی رہائش کی سرزمین یعنی کرم بھومی کے ساتھ وفادار رہنا چاہیے، جبکہ اپنی جنم بھومی یعنی بھارت سے ملنے والی اقدار کو بھی اپنے ساتھ لے کر چلنا چاہیے۔
 

تنوع میں اتحاد پر زور

آر ایس ایس سربراہ نے بھارت کے بارے میں بات کرتے ہوئے کہا کہ ملک کی شناخت تنوع میں اتحاد سے جڑی ہوئی ہے۔ ان کے مطابق بھارت میں مختلف زبانوں، مذاہب اور ثقافتوں کے باوجود لوگوں کو ایک ساتھ رہنے کی روایت حاصل ہے۔ انہوں نے کہا کہ بھارت کو دنیا کے سامنے یہ مثال پیش کرنی چاہیے کہ مختلف شناختوں اور خیالات کے باوجود اتحاد اور یکجہتی کے ساتھ رہا جا سکتا ہے۔ موہن بھاگوت نے سوامی وویکانند کا بھی ذکر کیا اور کہا کہ قومیں صرف ایک جغرافیائی خطہ نہیں ہوتیں بلکہ ان کے پاس ایک بڑا مقصد اور مشن بھی ہوتا ہے۔
 

مسلمانوں کے بارے میں کیا کہا؟

موہن بھاگوت نے مسلمانوں کے حوالے سے بھی اہم بیان دیا۔ انہوں نے کہا کہ اگر کوئی خود کو ہندو سمجھتے ہوئے یہ مانتا ہے کہ بھارت میں مسلمانوں کے لیے کوئی جگہ نہیں ہونی چاہیے تو وہ ہندو ہونے کے بنیادی تصور کو نہیں سمجھتا۔ موہن بھاگوت نے کہا کہ بھارت کی روایت رہی ہے کہ جو لوگ کہیں اور محفوظ جگہ نہیں ڈھونڈ پاتے، انہیں یہاں پناہ دی جاتی ہے۔ ان کے مطابق بھارت میں ہر ضرورت مند کے لیے جگہ بنانے کی روایت موجود ہے۔
انہوں نے کہا کہ آر ایس ایس کا ماننا ہے کہ پوری انسانیت ایک ہے اور تنظیم کا مقصد لوگوں کو یہ پیغام دینا ہے کہ اختلافات اور تنوع کے باوجود انسان ایک دوسرے سے جڑے ہوئے ہیں۔
 

کسی کے ساتھ امتیاز نہیں، بھاگوت

آر ایس ایس سربراہ نے کہا کہ ان کی تنظیم کسی کے ساتھ مذہب یا شناخت کی بنیاد پر امتیاز نہیں کرتی اور ضرورت مند لوگوں کی خدمت کرنے کی کوشش کرتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ معاشرے میں مسائل اس وقت پیدا ہوتے ہیں جب لوگ صرف "میں" اور "میرا" کے بارے میں سوچتے ہیں، جبکہ اجتماعی سوچ یعنی "ہم" اور "ہمارا" سے مسائل کا حل نکالا جا سکتا ہے۔
 

امریکہ میں آر ایس ایس کا عالمی پروگرام

موہن بھاگوت منگل کو آر ایس ایس کے صد سالہ عالمی رابطہ پروگرام کے تحت امریکہ پہنچے تھے۔ ان کے اس دورے کے دوران مختلف تقریبات میں بھارتی نژاد افراد، مذہبی رہنماؤں اور دیگر نمائندوں سے ملاقاتیں اور خطاب شامل ہیں۔ نیویارک میں ان کے حالیہ بیانات میں ایک طرف بیرون ملک رہنے والے بھارتی نژاد افراد کو اپنے موجودہ ملک کے ساتھ ذمہ داری اور وفاداری کا پیغام دیا گیا، جبکہ دوسری جانب بھارت میں مذہبی ہم آہنگی، تنوع اور تمام برادریوں کے ساتھ مل کر رہنے پر زور دیا گیا۔