Sunday, August 30, 2026 | 15 ربيع الأول 1448
  • News
  • »
  • سیاست
  • »
  • وجے کو وزیر اعظم بنانے کی مہم پر ٹی وی کے اور کانگریس میں اختلاف کے آثار

وجے کو وزیر اعظم بنانے کی مہم پر ٹی وی کے اور کانگریس میں اختلاف کے آثار

    Reported By: Munsif News Bureau | Edited By: Afreen Begum | Last Updated: Aug 30, 2026 IST

وجے کو وزیر اعظم بنانے کی مہم پر ٹی وی کے اور کانگریس میں اختلاف کے آثار
تمل ناڈو کی جماعت تاملگا ویٹری کزگہم یعنی ٹی وی کے اور کانگریس کے درمیان اختلافات کے آثار سامنے آنے لگے ہیں۔ یہ صورتحال اس وقت پیدا ہوئی جب ٹی وی کے سے وابستہ کچھ رہنماؤں اور کارکنوں نے اداکار سے سیاست دان بننے والے وزیر اعلیٰ وجے کو مستقبل کے وزیر اعظم کے امیدوار کے طور پر پیش کرنا شروع کیا۔
 

وجے کو وزیر اعظم کے امیدوار کے طور پر پیش کرنے کی مہم

ٹی وی کے کے حامیوں کی جانب سے سوشل میڈیا پر پوسٹرز اور ویڈیوز جاری کیے جا رہے ہیں، جن میں وجے کو ملک کے وزیر اعظم کے عہدے کے امیدوار کے طور پر دکھایا جا رہا ہے۔یہ مہم صرف تمل ناڈو تک محدود نہیں رہی بلکہ شمالی ہندوستان میں بھی اس طرح کے پوسٹر اور ویڈیوز گردش کر رہے ہیں۔ ٹی وی کے کے کچھ قانون سازوں اور وزراء کی جانب سے اسمبلی میں بھی وجے کی مسلسل تعریف کیے جانے کے بعد یہ معاملہ مزید نمایاں ہوا۔
 

کانگریس کیوں پریشان ہے؟

کانگریس کے کچھ رہنماؤں کو خدشہ ہے کہ وجے کو وزیر اعظم کے امیدوار کے طور پر پیش کرنے سے اپوزیشن اتحاد کے قومی سیاسی پیغام میں الجھن پیدا ہو سکتی ہے۔کانگریس کی جانب سے راہول گاندھی کو قومی سطح پر بی جے پی اور وزیر اعظم نریندر مودی کے مقابلے میں اہم چہرے کے طور پر پیش کرنے کی حکمت عملی پر بھی اس مہم کا اثر پڑ سکتا ہے۔
 

سروے کے بعد مہم کو مزید توجہ ملی

وجے کو وزیر اعظم کے امیدوار کے طور پر پیش کرنے کی مہم کو اس وقت مزید توجہ ملی جب ایک ٹی وی چینل کے سروے میں انہیں ممکنہ وزیر اعظم کے انتخاب میں 9 فیصد حمایت کے ساتھ تیسرے نمبر پر دکھایا گیا۔یہ نتیجہ کانگریس کے اندر تشویش کا باعث بنا، کیونکہ پارٹی کے بعض رہنماؤں کو خدشہ ہے کہ وجے کی بڑھتی مقبولیت مستقبل میں اتحاد کی قیادت کے سوال کو پیچیدہ بنا سکتی ہے۔
 

کانگریس نے ڈی ایم کے سے تعلق ختم کرکے ٹی وی کے سے اتحاد کیا

یہ معاملہ اس لیے بھی اہم ہے کہ کانگریس نے ٹی وی کے کے ساتھ اتحاد کرنے سے پہلے ڈی ایم کے کے ساتھ اپنی سیاسی وابستگی ختم کی تھی۔ڈی ایم کے پہلے راہول گاندھی کو وزیر اعظم کے عہدے کے لیے حمایت دے چکی تھی۔ اب ٹی وی کے کی جانب سے وجے کو وزیر اعظم کے امیدوار کے طور پر پیش کیا جانا کانگریس کے لیے ایک نئی سیاسی صورتحال پیدا کر رہا ہے۔
 

کانگریس رہنما وجے کی مقبولیت کو تسلیم کرتے ہیں

کانگریس کی رکن پارلیمنٹ جوتھی منی نے وجے کو وزیر اعظم کے امیدوار کے طور پر پیش کیے جانے کو انتخابی حکمت عملی قرار دیا ہے۔  ان کا کہنا ہے کہ نریندر مودی کی حکومت کا مقابلہ کرنے اور اسے شکست دینے کی صلاحیت کے معاملے میں راہول گاندھی کا کوئی مقابلہ نہیں۔
 

تمل ناڈو کے وزیر نرمل کمار کا بیان

 مدورائی میں جب اس تنازع کے بارے میں سوال کیا گیا تو ریاستی وزیر نرمل کمار نے کہا کہ ملک بھر میں بہت سے لوگ وجے کو مستقبل کے قومی رہنما کے طور پر دیکھتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ وجے سیاسی صورتحال کے مطابق مستقبل میں اپنے فیصلے خود کریں گے اور فی الحال اس معاملے پر بحث کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔
 

اتحاد کی قیادت کا سوال

کانگریس کے اندرونی حلقوں کے مطابق پارٹی نے ٹی وی کے کے ساتھ اتحاد کے بعد راہول گاندھی کو قومی سطح پر اتحاد کے اہم چہرے کے طور پر پیش کرنے کا منصوبہ بنایا تھا، جبکہ وجے کی مقبولیت کو استعمال کرتے ہوئے جنوبی ہندوستان میں اتحاد کو مضبوط کرنے کی کوشش کی جا رہی تھی۔
لیکن اب وجے کو وزیر اعظم کے امیدوار کے طور پر پیش کرنے کی مہم نے اس حکمت عملی کو مشکل بنا دیا ہے۔ اس سے یہ سوال بھی اٹھنے لگا ہے کہ مستقبل میں اتحاد کا قومی چہرہ کون ہوگا اور دونوں جماعتیں انتخابی مہم میں کس رہنما کو مرکزی حیثیت دیں گی۔فی الحال کانگریس اور ٹی وی کے دونوں اس اتحاد کا حصہ ہیں، لیکن وجے کی بڑھتی ہوئی مقبولیت اور انہیں وزیر اعظم کے امیدوار کے طور پر پیش کیے جانے کی مہم نے دونوں جماعتوں کے درمیان سیاسی اختلافات کے امکانات کو بڑھا دیا ہے۔