ہندوستان میں کینسر ایک تیزی سے بڑھتا ہوا صحت عامہ کا چیلنج بنتا جا رہا ہے۔ ماہرین کے مطابق ملک کے 70 فیصد سے زیادہ کینسر مریض ایسے مرحلے میں اسپتال پہنچتے ہیں جب بیماری آخری یا انتہائی سنگین اسٹیج تک پہنچ چکی ہوتی ہے۔ اس مرحلے پر نہ صرف علاج پیچیدہ اور مہنگا ہو جاتا ہے بلکہ مریض کے صحت یاب ہونے کے امکانات بھی نمایاں طور پر کم ہو جاتے ہیں۔
امریکن کینسر سوسائٹی کی رپورٹ کے مطابق 2024 میں بھارت میں تقریباً 15.33 لاکھ نئے کینسر کیسز سامنے آئے، جبکہ 8.74 لاکھ افراد اس بیماری سے جان کی بازی ہار گئے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ گزشتہ چند برسوں میں کینسر کے کیسز کے مقابلے میں اموات کی شرح کہیں زیادہ تیزی سے بڑھی ہے، جو اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ زیادہ تر مریضوں کی تشخیص وقت پر نہیں ہو پا رہی۔
ایکشن کینسر ہسپتال کے ڈائریکٹر ڈاکٹر جے بی شرما کے مطابق سب سے بڑا مسئلہ یہ ہے کہ لوگ علامات ظاہر ہونے کے باوجود بروقت ڈاکٹر سے رجوع نہیں کرتے۔ ان کے مطابق اگر جسم میں کوئی غیر معمولی علامت تین ہفتوں سے زیادہ برقرار رہے تو فوری طبی معائنہ کرانا چاہیے، کیونکہ ابتدائی مرحلے میں کینسر کی تشخیص علاج کو زیادہ مؤثر بنا سکتی ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ کینسر سے بچاؤ کے لیے صرف علاج کافی نہیں بلکہ آگاہی بھی انتہائی ضروری ہے۔ ان کے مطابق اسکولوں میں صحت، متوازن غذا، تمباکو نوشی سے بچاؤ، ویکسینیشن اور صحت مند طرز زندگی سے متعلق تعلیم کو نصاب کا حصہ بنایا جانا چاہیے تاکہ کم عمری سے ہی بیماریوں کی روک تھام ممکن ہو سکے۔
اسی دوران جدید طبی ٹیکنالوجی نے بھی نئی امید پیدا کی ہے۔ حال ہی میں ہندوستان میں ایک ایسا جدید خون کا ٹیسٹ متعارف کرایا گیا ہے جو ایک ہی نمونے سے کینسر کی متعدد اقسام کی ابتدائی نشاندہی کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ ماہرین کا ماننا ہے کہ اگر اسکریننگ پروگراموں کو وسعت دی جائے، مصنوعی ذہانت (AI) سے لیس تشخیصی نظام اپنایا جائے اور دیہی علاقوں تک طبی سہولیات پہنچائی جائیں تو کینسر کی بروقت تشخیص اور اموات کی شرح میں نمایاں کمی لائی جا سکتی ہے۔صحت کے ماہرین کا کہنا ہے کہ کینسر کے خلاف سب سے مؤثر ہتھیار بروقت تشخیص، عوامی آگاہی اور احتیاطی تدابیر ہیں۔ اگر لوگ علامات کو نظر انداز کرنے کے بجائے وقت پر طبی مشورہ حاصل کریں تو ہزاروں قیمتی جانیں بچائی جا سکتی ہیں۔