تمل ناڈو کے وزیر اعلیٰ اورمعروف اداکار سی جوزف وجے (تھلاپتی وجے) اور ان کی اہلیہ سنگیتا کی علیحدگی سے متعلق جاری قیاس آرائیوں کے درمیان اہم پیش رفت سامنے آئی ہے۔ اطلاعات کے مطابق سنگیتا نے وجے کے خلاف دائر اپنی طلاق کی درخواست واپس لے لی ہے، جس کے بعد عدالت نے مقدمہ بند کر دیا۔
رپورٹس کے مطابق یہ جوڑا گزشتہ کئی ماہ سے اپنے ازدواجی تعلقات کے حوالے سے خبروں میں تھا، اور ان کی تقریباً 27 سال پرانی شادی کے خاتمے کی قیاس آرائیاں کی جا رہی تھیں۔ تاہم تازہ پیش رفت کے بعد طلاق کا معاملہ ختم ہو گیا ہے۔ میڈیا رپورٹ کے مطابق، سنگیتا نے چنگل پٹو عدالت میں دائر اپنی درخواست واپس لے لی، جس کے بعد عدالت نے کیس مقدمہ بند کر دیا۔ اس پیش رفت کے بعد اب قانونی طور پر دونوں کے درمیان طلاق کی کارروائی جاری نہیں رہے گی۔
رپورٹس میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ سنگیتا نے اپنی درخواست میں وجے پر بے وفائی کے الزامات عائد کیے تھے۔ مبینہ طور پر ان کا کہنا تھا کہ انہیں اپریل 2021 میں معلوم ہوا کہ وجے ایک اداکارہ کے ساتھ قریبی تعلقات ہیں، جس سے ان کی ازدواجی زندگی متاثر ہوئی۔ تاہم ان الزامات کی سرکاری طور پر نہ تو عدالت میں تصدیق ہوئی اور نہ ہی وجے کی جانب سے ان دعوؤں کو تسلیم کیا گیا۔ وجے اور سنگیتا کی شادی 1999 میں ہوئی تھی۔ ان کے دو بچے ہیں، بیٹا جیسن سنجے اور بیٹی دیویا ساشا۔ دونوں طویل عرصے سے جنوبی بھارت کے معروف اور مقبول جوڑوں میں شمار کیے جاتے رہے ہیں۔
دریں اثنا، گزشتہ کچھ عرصے سے وجے اور اداکارہ تریشا کرشنن کے تعلقات سے متعلق بھی مختلف افواہیں گردش کرتی رہی ہیں۔ تریشا کو 2026 کے تمل ناڈو اسمبلی انتخابات کے دوران وجے کے ساتھ کئی عوامی مواقع پر دیکھا گیا، جن میں انتخابی مہم، کامیابی کے بعد ان کی رہائش گاہ پر ملاقات اور حلف برداری کی تقریب بھی شامل تھی۔ ان واقعات کے بعد سوشل میڈیا پر دونوں کے تعلقات سے متعلق مختلف قیاس آرائیاں سامنے آئیں۔
تاہم، وجے اور تریشا کرشنن میں سے کسی نے بھی ان افواہوں کی تصدیق نہیں کی۔ دونوں کا مؤقف یہی رہا ہے کہ ان کے درمیان صرف دوستانہ تعلقات ہیں اور گردش کرنے والی افواہوں میں کوئی حقیقت نہیں۔ طلاق کی درخواست واپس لیے جانے کے بعد وجے اور سنگیتا کی ازدواجی زندگی سے متعلق جاری قیاس آرائیوں کو وقتی طور پر ضرور وقفہ مل گیا ہے، تاہم اس معاملے پر دونوں خاندانوں کی جانب سے کوئی تفصیلی سرکاری بیان جاری نہیں کیا گیا۔