ملک میں E20 پیٹرول کو لے کر سیاسی بحث تیز ہو گئی ہے۔ حکومت کی ایتھنول بلینڈنگ پالیسی پر اپوزیشن مسلسل سوال اٹھا رہی ہے، جبکہ اس معاملے پر حکومت اور کانگریس کے درمیان الزام تراشی کا سلسلہ جاری ہے۔ اسی دوران لوک سبھا میں قائد حزب اختلاف راہل گاندھی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم X پر ایک ویڈیو شیئر کرتے ہوئے اعلان کیا کہ وہ E20 پیٹرول کے معاملے کو بڑے پیمانے پر عوام کے سامنے اٹھائیں گے۔ راہل گاندھی نے اپنی پوسٹ میں دعویٰ کیا کہ E20 پیٹرول گاڑیوں کے انجنوں کو نقصان پہنچا رہا ہے اور اس سے عام صارفین کو مالی نقصان اٹھانا پڑرہا ہے۔ انہوں نے حکومت کی پالیسی پر سخت تنقید کرتے ہوئے کہا، یہ صرف کسی ایک چیز کے خراب ہونے کا معاملہ نہیں، بلکہ پورا نظام ہی بوسیدہ ہے۔
انہوں نے الزام لگایا کہ پیٹرول میں ایتھنول کی زیادہ مقدار ملانے سے گاڑیوں کے انجن کی عمر کم ہو رہی ہے، مائلیج متاثر ہو رہی ہے اور صارفین پر اضافی اخراجات کا بوجھ بڑھ رہا ہے۔ راہل گاندھی کا کہنا تھا کہ حکومت نے اب تک یہ واضح نہیں کیا کہ اس پالیسی سے عام شہری کو عملی طور پر کیا فائدہ پہنچے گا۔ انہوں نے E20 کو "بدعنوانی کا ایک بڑا کیس" قرار دیتے ہوئے اس معاملے میں شفاف تحقیقات کا مطالبہ بھی کیا۔ اس سے قبل بھی کانگریس پارٹی مرکزی حکومت کی E20 پالیسی پر سوال اٹھا چکی ہے۔ پارٹی کے جنرل سیکریٹری جے رام رمیش نے کہا تھا کہ حکومت نے ایتھنول ملاوٹ کی پالیسی کو جلد بازی میں نافذ کیا، جبکہ اس کے ماحول، پانی کے وسائل اور غذائی تحفظ پر پڑنے والے اثرات کا مکمل جائزہ نہیں لیا گیا۔
جے رام رمیش نے اعداد و شمار پیش کرتے ہوئے کہا کہ ایک لیٹر ایتھنول تیار کرنے کے لیے گنے سے تقریباً 3,630 لیٹر پانی، چاول سے 10,790 لیٹر پانی اور مکئی سے تقریباً 4,670 لیٹر پانی درکار ہوتا ہے۔ ان کے مطابق، ایسے وقت میں جب ملک کے کئی حصوں میں زیر زمین پانی کی سطح مسلسل کم ہو رہی ہے، ایتھنول کی پیداوار کے لیے پانی کا اتنا زیادہ استعمال تشویش کا باعث ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ نیتی آیوگ کی 2021 کی ایتھنول روڈ میپ رپورٹ میں بھی زیادہ پائیدار خام مال کی طرف منتقل ہونے کی ضرورت پر زور دیا گیا تھا، تاکہ پانی اور خوراک کے وسائل پر دباؤ کم کیا جا سکے۔ E20 پیٹرول کے معاملے پر جاری سیاسی تنازع نے ایک بار پھر توانائی، ماحولیات اور عوامی مفاد سے متعلق کئی اہم سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔ ایک جانب حکومت اسے درآمدی تیل پر انحصار کم کرنے، کسانوں کی آمدنی بڑھانے اور صاف ایندھن کی جانب اہم قدم قرار دے رہی ہے، جبکہ اپوزیشن کا مؤقف ہے کہ اس پالیسی کے ممکنہ نقصانات اور اس کے معاشی و ماحولیاتی اثرات پر کھلے اور شفاف انداز میں بحث ہونی چاہیے۔