فالٹااسمبلی حلقے میں 21 مئی 2026 کو ہونے والی دوبارہ پولنگ (Re-polling) سے محض چند دن قبل علاقے میں سیاسی سرگرمیاں اور تناؤ عروج پر پہنچ گیا ہے۔ پولیس نے ایک بڑی کارروائی کرتے ہوئے ترنمول کانگریس (TMC) کے مقامی بااثر رہنما اور فالٹاپنچایت کمیٹی کے نائب صدر سعیدال خان کو گرفتار کر لیا ہے۔ ان پر اقدامِ قتل اور سیاسی تشدد بھڑکانے جیسے سنگین الزامات عائد ہیں۔
گرفتاری کی وجہ اور پولیس کاروائی:
فالٹاتھانہ پولیس نے جمعہ کی رات سعیدال خان کی رہائش گاہ پر اچانک چھاپہ مار کر انہیں حراست میں لیا۔ پولیس حکام کے مطابق: ملزم کے خلاف طویل عرصے سے سیاسی تشدد، مار پیٹ اور سنگین حملوں کے کئی مجرمانہ مقدمات درج تھے۔ حالیہ تحقیقات میں ملنے والے ٹھوس شواہد کی بنیاد پر یہ گرفتاری عمل میں آئی ہے۔ دوسری طرف، اس اہم گرفتاری پر ترنمول کانگریس کی قیادت کی جانب سے ابھی تک کوئی باضابطہ ردعمل یا بیان سامنے نہیں آیا ہے۔
دوبارہ پولنگ کا شیڈول:
الیکشن کمیشن کی ہدایات کے مطابق فالٹااسمبلی حلقے کے متاثرہ بوتھوں پر 21 مئی کو دوبارہ ووٹ ڈالے جائیں گے، جبکہ 24 مئی کو نتائج کا اعلان کیا جائے گا۔ انتخابی عمل سے ٹھیک پہلے ٹی ایم سی کے اہم عہدیدار کی گرفتاری نے علاقے کے سیاسی مساوات کو مزید حساس بنا دیا ہے۔
امیدوار جہانگیر خان پر سیاسی دباؤ:
ٹی ایم سی کے مقامی امیدوار جہانگیر خان، جو طویل عرصے تک عوامی سرگرمیوں سے دور رہنے کے بعد حال ہی میں دوبارہ سرگرم ہوئے ہیں، اس وقت شدید سیاسی دباؤ میں ہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ، علاقے میں بڑھتے ہوئے سیاسی دباؤ اور انتظامی کارروائیوں کی وجہ سے انہوں نے پبلک میٹنگز کم کر دی تھیں۔انہوں نے اپنے ساتھی کی گرفتاری کو ایک 'سیاسی سازش' قرار دیتے ہوئے تمام الزامات کو یکسر مسترد کر دیا ہے۔
بی جے پی اور ٹی ایم سی میں الزامات کا تبادلہ:
جہانگیر خان نے اپوزیشن جماعتوں پر الزام لگایا ہے کہ مخالفین کے کارکنوں نے ان کے انتخابی دفتر میں توڑ پھوڑ کی اور انتخابی ماحول کو خراب کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ دوسری طرف، بھارتیہ جنتا پارٹی (BJP) نے پلٹ وار کرتے ہوئے کہا ہے کہ ٹی ایم سی علاقے میں اثر و رسوخ قائم کرنے کے لیے انتظامیہ کا غلط استعمال کر رہی تھی اور یہ گرفتاری قانون کے مطابق ہوئی ہے۔
ماضی کا تنازع اور مبصر کا معاملہ:
فالٹاحلقہ پہلے بھی سرخیوں میں رہا ہے جب الیکشن کمیشن کی طرف سے مقرر کردہ اسپیشل آبزرویٹر اجے پال شرما کی ایک ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہوئی تھی۔ اس وقت ٹی ایم سی نے ان پر مقامی ووٹرز کو ڈرانے دھمکانے اور غیر جانبدارانہ رویہ نہ اپنانے کے الزامات لگائے تھے، جس پر سیاسی حلقوں میں کافی بحث دیکھنے کو ملی تھی۔ اب اس نئی گرفتاری کے بعد انتظامیہ نے امن و امان برقرار رکھنے کے لیے علاقے میں سیکیورٹی سخت کر دی ہے۔