متحدہ عرب امارات (UAE) کا کامیاب دورہ مکمل کرنے کے بعد وزیراعظم نریندر مودی نیدرلینڈز کے دارالحکومت ایمسٹرڈیم پہنچ گئے ہیں، جہاں ان کا والہانہ استقبال کیا گیا۔ وزیراعظم مودی 9 سال کے طویل عرصے کے بعد نیدرلینڈز کا دورہ کر رہے ہیں۔ اس دورے کو بھارت اور نیدرلینڈز کے درمیان تزویراتی، اقتصادی اور تکنیکی تعلقات کو نئی بلندیوں پر لے جانے کے لیے انتہائی اہم سمجھا جا رہا ہے۔
وزیراعظم مودی کا اہم بیان:
ایمسٹرڈیم پہنچنے پر وزیراعظم نریندر مودی نے اس دورے کی اہمیت پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا:نیدرلینڈز کا یہ دورہ ایک ایسے وقت میں ہو رہا ہے جب بھارت-یورپی یونین (India-EU) آزاد تجارتی معاہدے نے تجارت اور سرمایہ کاری کو ایک نئی رفتار دی ہے۔ یہ سفر سیمی کنڈکٹر، پانی کے انتظام ، ماحول دوست توانائی اور دیگر اہم شعبوں میں تعلقات کو گہرا کرنے کا ایک بہترین موقع ہے۔ میں وزیراعظم راب جیٹین کے ساتھ دوطرفہ مذاکرات کروں گا اور شاہی جوڑے سے بھی ملاقات کروں گا۔
شاہی جوڑے سے ملاقات اور کمیونٹی پروگرام:
اپنے اس دورے کے دوران وزیراعظم مودی نیدرلینڈز کے بادشاہ 'ولیم الیگزینڈر' اور ملکہ 'میکسما' سے ملاقات کریں گے۔ وزیراعظم کے اعزاز میں ایک سرکاری ضیافت کا اہتمام بھی کیا گیا ہے۔ اس کے علاوہ، وزیراعظم مودی یورپ میں مقیم دوسرے سب سے بڑے بھارتی تارکینِ وطن کے ایک بڑے عوامی پروگرام سے بھی خطاب کریں گے۔
وزارتِ خارجہ کے ترجمان رندھیر جیسوال نے سوشل میڈیا پر لکھا کہ یہ دورہ دونوں ممالک کی کثیر جہتی شراکت داری کو مضبوط کرنے اور بھارتی برادری سے جڑنے کا ایک بہترین ذریعہ ثابت ہوگا۔
بھارت کے لیے نیدرلینڈز کی اقتصادی اہمیت:
نیدرلینڈز یورپ میں بھارت کے سب سے بڑے اور اہم ترین اقتصادی شراکت داروں میں سے ایک ہے:دونوں ممالک کے درمیان 2.50 لاکھ کروڑ روپے کی دوطرفہ تجارت ہو رہی ہے، جس میں سے بھارت نے 1.59 لاکھ کروڑ روپے کی اشیاء نیدرلینڈز کو برآمد (Export) کی ہیں۔نیدرلینڈز کا مشہور بندرگاہی شہر 'روٹرڈیم' (Rotterdam) یورپ میں بھارتی مصنوعات کی سپلائی کے لیے اہم ترین تجارتی راستہ ہے۔
بھارت کو سیمی کنڈکٹر اور چپس کا عالمی مینوفیکچرنگ ہب بنانے کے ہدف میں نیدرلینڈز کی تکنیکی مہارت بھارت کے لیے ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتی ہے۔
مذاکرات کے بنیادی ایجنڈے اور مسائل:
وزیراعظم مودی اور نیدرلینڈز کے وزیراعظم راب جیٹین کے درمیان ہونے والی اعلیٰ سطحی بیٹھک میں کئی امور پر تبادلہ خیال ہوگا ،جن میں :بھارت میں چپ مینوفیکچرنگ کے لیے تکنیکی تعاون کو بڑھانا۔ماحولیاتی تبدیلیوں سے نمٹنے کے لیے کلین انرجی سیکٹر میں سرمایہ کاری۔دفاعی اور عسکری شعبے میں مشترکہ منصوبوں پر کام کرنا شامل ہے ۔ساتھ ہی دورے کے دوران دونوں ممالک کے مابین کئی اہم تجارتی اور سٹریٹجک معاہدوں پر باضابطہ دستخط کیے جائیں گے۔