Monday, May 25, 2026 | 07 ذو الحجة 1447
  • News
  • »
  • جرائم/حادثات
  • »
  • عصمت دری معاملہ: آسا رام کی عبوری ضمانت میں 7 جولائی تک توسیع

عصمت دری معاملہ: آسا رام کی عبوری ضمانت میں 7 جولائی تک توسیع

    Reported By: Munsif News Bureau | Edited By: sahjad mia | Last Updated: May 25, 2026 IST

عصمت دری معاملہ: آسا رام کی عبوری ضمانت میں 7 جولائی  تک توسیع
جودھپور میں ایک نابالغ لڑکی کے ساتھ جنسی زیادتی کے جرم میں عمر قید کی سزا کاٹ رہے آسا رام کو راجستھان ہائی کورٹ سے ایک بار پھر بڑی راحت ملی ہے۔ عدالت نے طبی بنیادوں  پر دی گئی ان کی عبوری ضمانت کی مدت میں 7 جولائی 2026 تک توسیع کر دی ہے۔ اس کے ساتھ ہی عدالت نے یہ بھی واضح کیا ہے کہ اگر اس تاریخ سے پہلے ان کی مرکزی اپیل پر کوئی حتمی فیصلہ آ جاتا ہے، تو وہی فیصلہ مؤثر مانا جائے گا۔
 
عدالت میں دونوں فریقین کے دلائل:
 
اس اہم معاملے کی سماعت ایکٹنگ چیف جسٹس سنجیو پرکاش شرما اور جسٹس کی ڈویژن بنچ نے کی۔ سماعت کے دوران دونوں فریقین کی طرف سے دلائل دی گئی۔
 
آسا رام کے وکیل سینئر ایڈوکیٹ دیودت کامت نے عدالت میں دلیل دی کہ آسا رام کی عمر بہت زیادہ ہو چکی ہے اور وہ کئی سنگین بیماریوں میں مبتلا ہیں، جن کا طویل عرصے سے علاج چل رہا ہے۔ ان کی گرتی ہوئی صحت کے پیشِ نظر عبوری ضمانت کی مدت میں اضافہ کرنا انتہائی ضروری ہے۔
 
دوسری طرف، ریاستی حکومت کی نمائندگی کرتے ہوئے ایڈیشنل ایڈوکیٹ جنرل دیپک چودھری نے ضمانت کی سخت مخالفت کی۔ انہوں نے کہا کہ جیل انتظامیہ کی جانب سے آسا رام کو جیل کے اندر اور ضرورت پڑنے پر ہسپتال میں مناسب اور اعلیٰ درجے کی طبی سہولیات فراہم کی جا رہی ہیں، اس لیے ضمانت بڑھانے کا کوئی جواز نہیں بنتا۔
 
ضمانت کے ساتھ سخت شرائط عائد:
 
راجستھان ہائی کورٹ نے دونوں فریقین کے دلائل سننے کے بعد آسا رام کی عبوری ضمانت میں توسیع کا حکم تو جاری کر دیا، لیکن ساتھ ہی چند سخت شرائط بھی عائد کی ہیں،آسا رام ضمانت کے دوران کسی بھی قسم کے مذہبی اجتماع یا سبھا میں شامل نہیں ہو سکیں گے۔وہ اپنے گرد عقیدت مندوں کی بھیڑ جمع کرنے یا کسی عوامی مہم کا حصہ بننے سے گریز کریں گے۔وہ عدالت کی اجازت کے بغیر ملک چھوڑ کر باہر نہیں جا سکتے۔
 
2013 سے جیل میں بند ہیں آسا رام:
 
واضح رہے کہ آسا رام کو سال 2013 میں نابالغ لڑکی سے زیادتی کے الزام میں گرفتار کیا گیا تھا اور وہ تب سے جودھپور سینٹرل جیل میں بند ہیں۔ سال 2018 میں ایک خصوصی عدالت نے انہیں مجرم قرار دیتے ہوئے عمر قید کی سزا سنائی تھی۔ اس سزا کے خلاف آسا رام کی جانب سے دائر کی گئی اپیل طویل عرصے سے راجستھان ہائی کورٹ میں زیرِ التوا (Pending) ہے، اور اب سب کی نظریں ہائی کورٹ کے آنے والے حتمی فیصلے پر ٹکی ہوئی ہیں۔