Wednesday, April 15, 2026 | 26 شوال 1447
  • News
  • »
  • سیاست
  • »
  • بہار میں پہلی بار بی جے پی زیر قیادت حکومت: سمراٹ چودھری نے سنبھالی سی ایم کی ذمہ داری

بہار میں پہلی بار بی جے پی زیر قیادت حکومت: سمراٹ چودھری نے سنبھالی سی ایم کی ذمہ داری

    Reported By: Munsif News Bureau | Edited By: Mohammed Imran Hussain | Last Updated: Apr 15, 2026 IST

بہار میں پہلی بار بی جے پی زیر قیادت حکومت: سمراٹ چودھری نے سنبھالی سی ایم کی ذمہ داری
بھارت کی ریاست بہار میں ایک بڑی سیاسی تبدیلی سامنے آئی ہے جہاں سمراٹ چودھری نے 24ویں وزیر اعلیٰ کے طور پر حلف اٹھا لیا ہے۔ یہ پہلا موقع ہے کہ ریاست میں بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کی براہ راست قیادت میں حکومت قائم ہوئی ہے۔حلف برداری کی تقریب لوک بھون میں منعقد ہوئی، جہاں گورنر سید عطاء حسنین نے سمراٹ چودھری سے عہدے اور رازداری کا حلف لیا۔ اس موقع پر جنتا دل (یونائیٹڈ) کے سینئر رہنما وجے کمار چودھری اور وجیندر پرساد یادو نے بھی نائب وزرائے اعلیٰ کے طور پر حلف اٹھایا۔
 
وزیر اعلیٰ کا عہدہ سنبھالنے سے قبل سمراٹ چودھری نے راج ونشی نگر کے ہنومان مندر میں حاضری دی اور دعا کی، جو ان کے لیے ایک نئی سیاسی شروعات کی علامت سمجھی جا رہی ہے۔یہ سیاسی تبدیلی سابق وزیر اعلیٰ نتیش کمار کے استعفے کے بعد عمل میں آئی، جنہوں نے راجیہ سبھا کا رخ کیا، جس کے بعد بی جے پی کو ریاست میں قیادت سنبھالنے کا موقع ملا۔
 
سمراٹ چودھری نے 1990 میں اپنی سیاسی زندگی کا آغاز کیا اور 1999 میں بہار کے وزیر زراعت بھی رہے۔ انہوں نے 2000 اور 2010 میں پربتہ اسمبلی حلقے سے انتخابات جیتے اور 2010 میں بہار اسمبلی میں اپوزیشن کے چیف وہپ مقرر ہوئے۔2018 کے بعد وہ بی جے پی کے ایک اہم رہنما کے طور پر ابھرے، جبکہ 2019 میں انہیں پارٹی کا ریاستی نائب صدر بنایا گیا۔ 2023 میں وہ بی جے پی بہار کے صدر مقرر ہوئے، جس سے ان کی سیاسی حیثیت مزید مضبوط ہوئی۔
 
سمراٹ چودھری اس وقت خاصی توجہ کا مرکز بنے جب نتیش کمار نے بی جے پی سے علیحدگی اختیار کر کے مہاگٹھ بندھن حکومت بنائی۔ اس موقع پر انہوں نے ایک علامتی عہد کیا کہ وہ اپنی روایتی پگڑی (مُرَیٹھا) اس وقت تک نہیں اتاریں گے جب تک نتیش کمار وزیر اعلیٰ کے عہدے سے ہٹ نہیں جاتے۔ یہ اقدام ان کی سیاسی پہچان بن گیا۔
 
نائب وزیر اعلیٰ وجے کمار چودھری کا تعلق سمستی پور سے ہے اور وہ ایک مضبوط سیاسی پس منظر رکھتے ہیں۔ وہ ماضی میں کانگریس کا حصہ رہے لیکن 2005 میں جے ڈی (یو) میں شمولیت کے بعد اہم عہدوں پر فائز رہے۔ وہ اپنی صاف شبیہ اور انتظامی صلاحیتوں کے لیے جانے جاتے ہیں۔دوسرے نائب وزیر اعلیٰ وجیندر پرساد یادو، جو 79 برس کے ہیں، بہار کی سیاست میں ایک بااثر شخصیت سمجھے جاتے ہیں۔ کوسی خطے میں انہیں "چانکیہ" کہا جاتا ہے اور وہ 1990 سے مسلسل انتخاب جیتتے آ رہے ہیں۔ انہوں نے خاص طور پر بجلی کے نظام کی بہتری میں اہم کردار ادا کیا ہے۔
 
یہ نئی حکومت بہار کی سیاست میں ایک اہم سنگ میل کی حیثیت رکھتی ہے۔ سمراٹ چودھری کی قیادت میں اور تجربہ کار رہنماؤں کی معاونت سے اب یہ دیکھنا اہم ہوگا کہ ریاست ترقی کے سفر کو کس طرح آگے بڑھاتی ہے اور عوامی توقعات پر کس حد تک پورا اترتی ہے۔