کولمبو ٹیسٹ کے پہلے دن ہندوستانی بلے باز یشسوی جیسوال اور سری لنکا کے فاسٹ بولراسیتھا فرنینڈو کے درمیان تلخ صورتحال پیدا ہوگئی۔ جیسوال کے آؤٹ ہونے کے بعد ڈریسنگ روم کی طرف جاتے ہوئے دونوں کھلاڑیوں کے درمیان بحث ہوئی، جو بعد میں جسمانی تصادم تک پہنچ گئی۔ اس واقعے پر جیسوال کو میچ فیس کا 25 فیصد جرمانہ اور ایک ڈیمیرٹ پوائنٹ دیا گیا۔
سنجے منجریکر نے سزا پر سوال اٹھایا
سابق بھارتی کرکٹر سنجے منجریکر نے جیسوال کو دی گئی سزا کو ناکافی قرار دیتے ہوئے سوال اٹھایا کہ کیا ایسے معاملے میں مزید سخت کاروائی نہیں ہونی چاہیے تھی۔ منجریکر کا کہنا ہے کہ اگر کھلاڑیوں کو ایسے رویے پر سخت سزا نہ دی جائے تو وہ مستقبل میں بھی اس طرح کے واقعات دہرا سکتے ہیں۔ ان کے مطابق یہ نہ صرف کھیل کے لیے بلکہ خود نوجوان کھلاڑیوں کے مستقبل کے لیے بھی نقصان دہ ہوسکتا ہے۔ انہوں نے سوشل میڈیا پر لکھا کہ حالیہ دنوں میں ویبھو سوریاونشی اور اب جیسوال سے متعلق ایسے واقعات سامنے آئے ہیں، اس لیے کھلاڑیوں کو واضح پیغام دینے کی ضرورت ہے کہ جسمانی تصادم قابل قبول نہیں۔
ویبھو سوریاونشی کا معاملہ کیا تھا؟
منجریکر نے اس سے پہلے بھی نوجوان بھارتی کھلاڑی ویبھو سوریاونشی کے رویے پر تنقید کی تھی۔ جون کے شروع میں بھارت اے اور سری لنکا اے کے درمیان ایک میچ کے بعد سوریاونشی نے سری لنکا اے کے کھلاڑی وشین ہالمباگے کو دھکا دے دیا تھا۔ یہ واقعہ سپر اوور کے بعد پیش آیا تھا۔ اس معاملے میں سوریاونشی اوروشین دونوں پر میچ فیس کا 50 فیصد جرمانہ عائد کیا گیا تھا۔ تلک ورما اور نیروشن ڈکویلا کو بھی واقعے میں ملوث ہونے پر سزا دی گئی تھی۔ منجریکر نے اس وقت کہا تھا کہ سوریاونشی کو اگلے میچ سے باہر کر دینا چاہیے تھا۔
جیسوال نے اپنے رویے کا دفاع کیا
یشسوی جیسوال نے بھی اپنے رویے کا دفاع کرتے ہوئے کہا تھا کہ اگر مخالف کھلاڑی حد سے آگے بڑھیں تو بھارتی کھلاڑیوں کو جواب دینا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ اگر کوئی مخالف کھلاڑی حد پار کرتا ہے تو بھارتی ٹیم کو اسے جواب دینا چاہیے اور اپنی ٹیم کے لیے کھڑا ہونا چاہیے۔
کولمبو ٹیسٹ میں مزید تلخ واقعات
سری لنکا کی اننگز کے دوران بھی کھلاڑیوں کے درمیان کئی بار تلخ کلامی ہوئی۔ بھارتی فاسٹ بولر محمد سراج اور سری لنکن کھلاڑی کامل مشرا کے درمیان بحث ہوئی، جس کے بعد امپائرز کو مداخلت کرنا پڑی۔ بعد میں متبادل فیلڈر سرفراز خان کی بھی دھننجایا ڈی سلوا اورنیروشن ڈکویلا کے ساتھ بحث ہوئی۔ سنجے منجریکر کے مطابق بار بار ہونے والے ایسے واقعات اس بات کی ضرورت ظاہر کرتے ہیں کہ کھلاڑیوں کو جسمانی تصادم سے دور رہنا چاہیے اور میدان میں کھیل کے اصولوں اور نظم و ضبط کا خیال رکھنا چاہیے۔