سپریم کورٹ نے مدھیہ پردیش کے دھار ضلع میں واقع متنازع بھوج شالہ -کمال مولا مسجدکمپلیکس کے معاملے میں آج ایک اہم فیصلہ سنایا ہے۔ کورٹ نے ہندو فرنٹ فار جسٹس کی درخواست پر سماعت کرتے ہوئے ہندو فریق کو دوپہر 12 بجے تک پوجا کرنے کی اجازت دی ہے۔ اس کے بعد مسلمان دوپہر 1 بجے سے 3 بجے تک نماز ادا کریں گے۔ پھر ہندو فریق شام 4 بجے کے بعد دوبارہ اپنی پوجا شروع کر سکتا ہے۔
دراصل، ہندو فریق نے 20 جنوری کو ایک درخواست دائر کی تھی جس میں 23 جنوری کو آنے والی بسنت پنچمی کے موقع پر پورے دن مسلسل سرسوتی پوجا کرنے کی اجازت مانگی گئی تھی۔ اس کیس کی سماعت جسٹس سوریہ کانت، جویمالیہ باغچی اور وپل پنچولی کی بنچ نے کی۔ سماعت کے دوران کورٹ کو بتایا گیا کہ پچھلے چند سالوں سے بسنت پنچمی جمعہ کے دن پڑ رہی ہے۔ ہندو فریق کے وکیل نے دلیل دی کہ کل بسنت پنچمی ہے اور سورج نکلنے سے سورج غروب ہونے تک پوجا، ہون اور روایتی تقریبات ہوں گے۔
مسلمان فریق نے کیا کہا؟
اسی طرح، ASI کے وکیل نے کورٹ کو یقین دلایا کہ قانون و ترتیب برقرار رکھنے کے لیے تمام انتظامات کیے جائیں گے، جیسا کہ پچھلے سالوں میں کیا جاتا رہا ہے۔ مسجد فریق کے وکیل نے کہا کہ دوپہر 1 بجے سے 3 بجے کے درمیان نماز ادا کی جائے گی، جس کے بعد کمپلیکس خالی کر دیا جائے گا۔ ہندو فریق نے تجویز دی کہ نماز شام 5 بجے کے بعد ادا کی جائے تاکہ پوجا میں کوئی خلل نہ پڑے، لیکن مسجد فریق نے واضح کیا کہ جمعہ کی نماز کا وقت تبدیل نہیں کیا جا سکتا، البتہ دیگر نمازوں کا وقت ایڈجسٹ کیا جا سکتا ہے۔
کورٹ نے متوازن فیصلہ دیا:
سپریم کورٹ نے ایک متوازن حل اپناتے ہوئے کہا کہ کمپلیکس کے اندر نماز کے لیے دوپہر 1 بجے سے 3 بجے کے درمیان ایک الگ اور مقررہ جگہ فراہم کی جائے گی، جس میں آنے جانے کے لیے الگ راستے ہوں گے تاکہ نماز سکون سے ادا کی جا سکے۔ اسی طرح ہندو برادری کو بھی بسنت پنچمی کے موقع پر اپنے روایتی مذہبی رسومات ادا کرنے کے لیے کمپلیکس کے اندر ایک الگ جگہ دی جائے گی۔
کورٹ نے واضح کیا کہ یہ انتظام فرقہ وارانہ ہم آہنگی اور قانون و ترتیب برقرار رکھنے کے لیے کیا گیا ہے۔انتظامیہ اور ASI کو ہدایت دی گئی ہے کہ وہ یہ یقینی بنائیں کہ کسی بھی برادری کے مذہبی پروگرام میں کوئی خلل نہ پڑے اور امن و امان برقرار رہے۔
تہوار کو لے کر سیکیورٹی کے بھاری انتظامات:
23 جنوری کو بسنت پنچمی اور جمعہ کی نماز ایک ساتھ آنے کی وجہ سے دھار میں حساس صورتحال ہے۔ پولیس ہیڈ کوارٹرز (PHQ) نے قانون و ترتیب برقرار رکھنے کے لیے بھاری تعداد میں فورس تعینات کر رکھی ہے۔ انڈور رورل آئی جی انوراگ کو ذمہ دار بنایا گیا ہے۔ ان کے ساتھ DIG رینک کے 2 افسران اور SP رینک کے 13 افسران کو بھی ذمہ داری سونپی گئی ہے۔ تقریباً 7,000 جوان، 20 ڈرونز اور 1,000 کیمروں سے نگرانی کی جا رہی ہے۔
بھوجشالہ مسجد کے حوالے سے کیا ہے تنازع؟
متنازعہ بھوج شالہ–کمال مولا مسجد کمپلیکس،جسے مسلم برادری مسجد کہتی ہے۔جبکہ ہندو برادری اس ڈھانچے کو سرسوتی مندر کہتی ہے، 2003 میں ہونے والی تشدد کے بعد یہاں ہر منگل اور بسنت پنچمی کے دن سورج نکلنے سے سورج غروب ہونے تک ہندو برادری پوجا کرتی ہے۔ جبکہ جمعہ کے دن مسلم برادری کے لوگ نماز ادا کرتے ہیں۔ تاہم، جب بھی بسنت پنچمی جمعہ کے دن پڑتی ہے، تب تنازع کی صورتحال پیدا ہو جاتی ہے۔ اس سے پہلے 2013 اور 2016 میں بھی بسنت پنچمی اور جمعہ ایک ساتھ آنے پر تناؤ کی صورتحال پیدا ہوئی تھی۔