Tuesday, September 08, 2026 | 24 ربيع الأول 1448
  • News
  • »
  • سیاست
  • »
  • ٹی ایم سی کے دفتر کے سائن بورڈ کا معاملہ: سپریم کورٹ نے ہائی کورٹ سے رجوع کرنے کا دیا حکم

ٹی ایم سی کے دفتر کے سائن بورڈ کا معاملہ: سپریم کورٹ نے ہائی کورٹ سے رجوع کرنے کا دیا حکم

    Reported By: Munsif News Bureau | Edited By: MD Shahbaz | Last Updated: Sep 08, 2026 IST

ٹی ایم سی کے دفتر کے سائن بورڈ کا معاملہ: سپریم کورٹ نے ہائی کورٹ سے رجوع کرنے کا دیا حکم
سپریم کورٹ نے ترنمول کانگریس (ٹی ایم سی) سے کہا ہے کہ کولکتہ کے کامک اسٹریٹ میں واقع پارٹی دفتر سے سائن بورڈ ہٹانے سے متعلق تمام اعتراضات اور تنازعات کلکتہ ہائی کورٹ کے سامنے اٹھائے جائیں۔ عدالت عظمیٰ نے معاملے میں براہ راست مداخلت کرنے کے بجائے ٹی ایم سی کو ہائی کورٹ سے رجوع کرنے کی ہدایت دی ہے۔ چیف جسٹس سوریہ کانت کی سربراہی میں جسٹس باغچی اور جسٹس وی. موہنا پر مشتمل بنچ نے ٹی ایم سی کی جانب سے دائر درخواست کو نمٹا دیا۔ بنچ نے ہائی کورٹ سے کہا کہ وہ اس معاملے میں فریقین کی جانب سے اٹھائے جانے والے تمام تنازعات پر جلد فیصلہ کرے۔
 
ٹی ایم سی نے یہ درخواست کلکتہ ہائی کورٹ کے اس فیصلے کے خلاف دائر کی تھی، جس میں عدالت نے پارٹی کو عبوری راحت دینے سے انکار کر دیا تھا۔ ٹی ایم سی کی جانب سے سپریم کورٹ میں سینئر وکیل کپل سبل پیش ہوئے۔کپل سبل نے عدالت عظمیٰ سے درخواست کی کہ وہ اس معاملے میں مداخلت کرے اور ٹی ایم سی کے رکن پارلیمنٹ ابھیشیک بنرجی کے دفتر کے احاطے میں موجود پارٹی کے بل بورڈ کو ہٹانے یا توڑنے کے معاملے پر مناسب حکم جاری کرے۔
 
تاہم سپریم کورٹ نے اس تنازع کو براہ راست اپنے سامنے رکھنے کے بجائے ٹی ایم سی کو ہائی کورٹ سے رجوع کرنے کو کہا۔ عدالت نے واضح کیا کہ معاملے سے متعلق تمام قانونی اور دیگر اعتراضات متعلقہ ہائی کورٹ کے سامنے اٹھائے جا سکتے ہیں۔عدالت کی جانب سے درخواست نمٹائے جانے کے بعد اب اس معاملے میں اگلی اہم کارروائی کلکتہ ہائی کورٹ میں ہوگی۔ ہائی کورٹ فریقین کے دلائل اور دستیاب ریکارڈ کی بنیاد پر اس تنازع پر فیصلہ کرے گی۔
 
یہ معاملہ ٹی ایم سی کے دفتر اور پارٹی کے سائن بورڈ سے متعلق ہونے کے ساتھ ساتھ سیاسی طور پر بھی اہم سمجھا جا رہا ہے، کیونکہ اس میں پارٹی کے سینئر رہنما اور رکن پارلیمنٹ ابھیشیک بنرجی کے دفتر کا احاطہ شامل ہے۔فی الحال سپریم کورٹ نے اس معاملے پر کوئی حتمی فیصلہ دینے کے بجائے قانونی تنازع کو ہائی کورٹ کے سامنے لے جانے کا راستہ اختیار کیا ہے۔ اب سب کی نظریں کلکتہ ہائی کورٹ کی آئندہ سماعت اور اس کے فیصلے پر ہوں گی۔