تمل ناڈو کے وزیراعلیٰ اور تملگا ویٹری کزگم (TVK) کے سربراہ سی جوزف وجے نے ریاستی اسمبلی میں سرکاری شراب کارپوریشن TASMAC میں مبینہ بدعنوانی کے معاملے پر سابق ڈی ایم کے حکومت کو سخت تنقید کا نشانہ بنایا۔ وزیراعلیٰ نے مرکزی تفتیشی ایجنسی انفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ (ED) کی ایک رپورٹ کا حوالہ دیتے ہوئے ریاست میں مبینہ طور پر سرگرم ایک منظم نیٹ ورک کا ذکر کیا، جسے انہوں نے ’’کرور گینگ‘‘ قرار دیا۔
وجے کے مطابق یہ مبینہ نیٹ ورک 2021 سے 2025 کے درمیان سرگرم تھا اور اس دوران سرکاری نظام کا غلط استعمال کرتے ہوئے غیر قانونی وصولی، ٹینڈر میں مبینہ ہیرا پھیری اور مالی بے ضابطگیوں کا سلسلہ چلایا گیا۔ وزیراعلیٰ نے الزام لگایا کہ سرکاری قوانین اور طریقہ کار کو نظرانداز کرکے بعض نجی افراد اور سیاسی دلالوں کو فائدہ پہنچایا گیا۔ وجے نے کہا کہ اس عرصے کے دوران TASMAC کا محکمہ سابق ڈی ایم کے وزیر وی سینتھل بالاجی کے پاس تھا۔ وزیراعلیٰ نے الزام عائد کیا کہ کرور اور کوئمبٹور سمیت بعض علاقوں میں شراب صارفین سے مقررہ قیمت سے زیادہ رقم وصول کیے جانے اور مقامی بار مالکان سے مبینہ طور پر جبری وصولی کی شکایات سامنے آئی تھیں۔
وزیراعلیٰ نے سابق وزیر کے بھائی وی اشوک کمار کا نام بھی لیا اور ان پر مبینہ دھوکہ دہی، ٹینڈر سے متعلق بے ضابطگیوں اور ٹرانسپورٹ و پروکیورمنٹ کنٹریکٹس کے ذریعے سرکاری رقم کے غلط استعمال جیسے الزامات عائد کیے۔ تاہم ان الزامات کی حتمی قانونی حیثیت تفتیش اور عدالتی کارروائی کے بعد ہی واضح ہوگی۔ اسمبلی میں اپنے خطاب کے دوران وجے نے اپنی سیاسی جماعت TVK کی کامیابی کا بھی ذکر کیا۔ انہوں نے ریاست کی سیاسی تاریخ کے اہم انتخابی نتائج کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ان کی تقریباً دو سال پرانی جماعت نے 2026 کے اسمبلی انتخابات میں کامیابی حاصل کرکے حکومت تشکیل دی، جو ان کے مطابق تمل ناڈو کی سیاست میں ایک اہم تبدیلی ہے۔
وجے نے کہا کہ ’’خدا، قدرت اور عوام‘‘ ان کے ساتھ ہیں اور بدعنوانی کے خلاف جاری تحقیقات کو روکنے کی کوششیں کامیاب نہیں ہوں گی۔ انہوں نے اپوزیشن پر بھی تنقید کرتے ہوئے کہا کہ انسداد بدعنوانی کی تحقیقات کے خلاف کیے جانے والے تمام حربے ناکام ہوں گے۔ وزیراعلیٰ یہ جواب محکمہ داخلہ اور پولیس کے لیے گرانٹ کے مطالبات پر اسمبلی میں جاری بحث کے دوران دے رہے تھے۔ اب TASMAC سے متعلق مبینہ مالی بے ضابطگیوں پر مزید تحقیقات اور قانونی کارروائی پر سب کی نظریں ہیں۔