Tuesday, September 08, 2026 | 24 ربيع الأول 1448
  • News
  • »
  • عالمی منظر
  • »
  • فرانس: ایفل ٹاور پر خواتین عملے کو ہٹانے کا الزام، تحقیقات کا حکم

فرانس: ایفل ٹاور پر خواتین عملے کو ہٹانے کا الزام، تحقیقات کا حکم

    Reported By: Munsif News Bureau | Edited By: MD Shahbaz | Last Updated: Sep 08, 2026 IST

فرانس: ایفل ٹاور پر خواتین عملے کو ہٹانے کا الزام، تحقیقات کا حکم
فرانس کے مشہور ایفل ٹاور کو پیر کے روز عملے کے احتجاج کے باعث کچھ وقت کے لیے بند رکھا گیا اور اس کے کھلنے میں بھی تاخیر ہوئی۔ یہ احتجاج ہفتے کے روز پیش آنے والے ایک مبینہ واقعے کے خلاف کیا گیا، جس میں خواتین ملازمین کو اپنے کام کی جگہوں سے ہٹنے کے لیے کہا گیا تھا۔ یونین نمائندوں کے مطابق یہ واقعہ ہندو مذہبی تنظیم BAPS سے وابستہ تقریباً 100 افراد کے ایک نجی دورے کے دوران پیش آیا۔ ملازمین کا الزام ہے کہ وفد کے ایفل ٹاور سے گزرنے کے وقت خواتین عملے کو ان کی پوزیشن سے ہٹا دیا گیا تاکہ ان کی جگہ مرد ملازمین کام سنبھال سکیں۔
 
اس واقعے کے بعد ایفل ٹاور کے عملے میں ناراضی اور کشیدگی پیدا ہوگئی۔ یونین نمائندہ ڈیان ڈیوائن نے بتایا کہ ملازمین نے پیر کی صبح ایک اجلاس بلانے کا فیصلہ کیا تھا۔ اس اجلاس کا مقصد انتظامیہ کے ساتھ واقعے پر بات کرنا اور یہ یقینی بنانا تھا کہ مستقبل میں خواتین ملازمین کے ساتھ اس طرح کا رویہ اختیار نہ کیا جائے۔عملے کے اجلاس کی وجہ سے ایفل ٹاور کے معمول کے مطابق کھلنے میں تاخیر ہوئی۔ ڈیوائن کے مطابق انتظامیہ نے واقعے پر عملے سے معذرت بھی کی ہے۔
 
دوسری جانب BAPS نے ان الزامات کے حوالے سے کہا ہے کہ وفد کا دورہ ایفل ٹاور کی انتظامیہ کے ساتھ پیشگی رابطے کے بعد طے کیا گیا تھا۔ تنظیم کے مطابق تقریباً 100 افراد پر مشتمل وفد کے دورے کا وقت اس لیے مقرر کیا گیا تھا تاکہ عام سیاحوں کو کم سے کم دشواری ہو اور ایفل ٹاور تک معمول کی رسائی برقرار رہے۔ BAPS نے اپنے بیان میں کہا کہ اسے ایسے کسی واقعے کی اطلاع نہیں ہے جس میں کسی عام سیاح کو ایفل ٹاور میں داخل ہونے سے روکا گیا ہو۔ تاہم تنظیم نے پیدا ہونے والی صورتحال پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اگر کسی شخص کو اس معاملے سے تکلیف یا ناراضی ہوئی ہے تو وہ اس کے لیے مخلصانہ معذرت خواہ ہیں۔
 
معاملہ سامنے آنے کے بعد پیرس انتظامیہ نے بھی تحقیقات کا حکم دے دیا ہے۔ پیرس کے ڈپٹی میئر ایمانوئل گریگوئیر نے کہا کہ ایفل ٹاور کے ملازمین کی جانب سے اٹھائے گئے خدشات کو سنجیدگی سے لینے کی ضرورت ہے۔ایفل ٹاور کو چلانے والی کمپنی SETE نے بھی تصدیق کی کہ وفد کی جانب سے ایسے انتظامات کی درخواست کی گئی تھی جن کے تحت خواتین عملے کے ساتھ رابطہ کم سے کم رکھا جائے۔ کمپنی نے تسلیم کیا کہ اس طرح کی شرائط کو قبول نہیں کیا جانا چاہیے تھا۔اب انتظامیہ کی تحقیقات کے بعد ہی یہ واضح ہوگا کہ واقعے میں اصل میں کیا ہوا اور اس کے ذمہ دار کون تھے۔