Saturday, May 16, 2026 | 28 ذو القعدة 1447
  • News
  • »
  • عالمی منظر
  • »
  • پاک افغان سرحد پر کشیدگی میں اضافہ: باجوڑ میں سیکیورٹی کیمپ پر بڑا حملہ، 20 سے زائد اہلکار ہلاک

پاک افغان سرحد پر کشیدگی میں اضافہ: باجوڑ میں سیکیورٹی کیمپ پر بڑا حملہ، 20 سے زائد اہلکار ہلاک

    Reported By: Munsif News Bureau | Edited By: sahjad mia | Last Updated: May 16, 2026 IST

 پاک افغان سرحد پر کشیدگی میں اضافہ: باجوڑ میں سیکیورٹی کیمپ پر بڑا حملہ، 20 سے زائد اہلکار ہلاک
پاکستان کے شمال مغربی سرحدی علاقے باجوڑ میں سیکیورٹی فورسز کے ایک اہم ٹھکانے پر ہونے والے خودکش حملے اور فائرنگ کے نتیجے میں 20 سے زائد پاکستانی جوان ہلاک اور 35 سے زائد زخمی ہو گئے ہیں۔ اس شدید حملے کی ذمہ داری کالعدم تحریکِ طالبان پاکستان (TTP) نے قبول کر لی ہے۔یہ حملہ ایک ایسے وقت میں ہوا ہے جب پاکستان عالمی سطح پر امریکہ اور ایران کے درمیان کشیدگی کم کرانے کے لیے ثالث کا کردار ادا کرنے کی کوشش کر رہا ہے، جبکہ خود اس کی اپنی مغربی سرحد شدید ترین بحران کی زد میں ہے۔
 
 بارود سے بھری گاڑی کا دھماکہ:
 
ذرائع کے مطابق، ہتھیار بند حملہ آوروں نے بارود سے بھری ایک گاڑی کو سیکیورٹی کیمپ کے مرکزی دروازے سے ٹکرا دیا، جس کے بعد ایک زوردار دھماکہ ہوا۔ دھماکے کی شدت اتنی زیادہ تھی کہ اس کی آواز 20 کلومیٹر دور بازاروں تک سنی گئی۔
 
دھماکے کے فوراً بعد دیگر حملہ آور اندھا دھند فائرنگ کرتے ہوئے کیمپ کے اندر داخل ہو گئے۔اس کاروائی میں پاکستان کے 20 سے زائد اہلکار ہلاک ہوئے، جبکہ جوابی فائرنگ میں کم از کم 10 حملہ آور بھی مارے گئے۔حملے کے بعد سامنے آنے والی تصاویر میں چوکی کی عمارتیں مکمل طور پر تباہ اور جھلس چکی ہیں۔ پاک فوج نے علاقے کی ناکہ بندی کر کے سرچ آپریشن شروع کر دیا ہے۔
 
 باجوڑ میں حالیہ پرتشدد واقعات کا تسلسل:
 
باجوڑ کا یہ پہاڑی علاقہ افغانستان کی سرحد سے متصل ہے اور گزشتہ چند دنوں میں یہاں تشدد کی لہر میں شدید اضافہ دیکھا گیا ہے۔ چند روز قبل ایک پولیس چوکی پر کار دھماکے میں ایک درجن سے زائد افراد ہلاک ہوئے تھے۔ ایک مقامی بازار میں ہونے والے دھماکے میں 9 افراد کی جان گئی تھی۔باجوڑ ہی کے علاقے 'عنایت کلی' میں سیکیورٹی کیمپ پر مارٹر کا گولا گرنے سے 3 اہلکار زخمی ہوئے تھے۔
 
پاکستان کا الزام ؟
 
پاکستان مسلسل یہ الزام عائد کرتا رہا ہے کہ ٹی ٹی پی (TTP) افغانستان کی سرزمیں استعمال کر کے پاکستان میں دہشت گردی پھیلا رہی ہے۔ دوسری طرف، افغانستان کی طالبان حکومت ان الزامات کو یکسر مسترد کرتی آئی ہے۔ اگرچہ افغان طالبان اور سیکیورٹی فورسز پر حملہ کرنے والے پاکستان طالبان الگ الگ تنظیمیں ہیں، لیکن اس معاملے نے دونوں ہمسایہ ممالک کے تعلقات کو انتہائی مخدوش کر دیا ہے۔
 
 جنگ بندی کی ناکام کوششیں اور چین کی ثالثی:
 
2021 میں افغانستان میں طالبان کی حکومت آنے کے بعد سے دونوں ممالک کے تعلقات میں دراڑیں پڑنا شروع ہوئی تھیں، جو فروری 2026 سے کھلی جھڑپوں میں تبدیل ہو گئیں۔حالات اس حد تک خراب ہوئے کہ پاکستان کے وزیر دفاع نے اسے "کھلی جنگ" سے تعبیر کیا تھا۔گزشتہ ماہ چین کی ثالثی میں پاکستان اور افغانستان کے درمیان مذاکرات ہوئے تھے، جس میں کشیدگی نہ بڑھانے پر اتفاق تو ہوا، لیکن کسی باضابطہ معاہدے یا مستقل سیز فائر (جنگ بندی) پر دستخط نہیں ہو سکے۔
 
 انسانی بحران اور ہلاکتوں کے ہولناک اعداد و شمار:
 
اقوامِ متحدہ (UN) کی رواں ہفتے جاری ہونے والی رپورٹ کے مطابق، سال 2026 کے پہلے تین مہینوں (جنوری تا مارچ) میں پاک افغان سرحد پر جاری اس کشیدگی اور فائرنگ کے تبادلے میں کم از کم 372 افغان شہری ہلاک اور تقریباً 400 افراد زخمی ہو چکے ہیں۔ ماہرین کا ماننا ہے کہ اگر فوری طور پر دونوں ممالک کے درمیان مذاکرات کے ذریعے مستقل حل نہ نکالا گیا، تو یہ سرحدی تنازع خطے کو ایک بڑی جنگ کی طرف دھکیل سکتا ہے۔