بھوپال سے متعلق ٹویشا شرما کیس کی سماعت کے دوران سپریم کورٹ نے نہ صرف عدالتی عمل پر اٹھنے والے سوالات پر تشویش کا اظہار کیا بلکہ میڈیا کے کردار پر بھی اہم تبصرے کیے۔ 25 مئی کو ہونے والی سماعت میں چیف جسٹس سوریہ کانت نے کہا کہ عدالت نے کچھ ایسی باتیں سنی ہیں جن سے وہ شدید پریشان ہیں، خصوصاً وہ دعوے جن میں یہ تاثر دیا جا رہا ہے کہ عدلیہ کیس کی کارروائی کی تفصیلات لیک کر رہی ہے۔
چیف جسٹس نے سماعت کے دوران اس بات کا بھی ذکر کیا کہ اس معاملے میں نامزد ساس سابق ڈسٹرکٹ جج رہ چکی ہیں، اور ایسے حالات میں عدلیہ سے متعلق اس نوعیت کے الزامات مزید افسوسناک اور حساس بن جاتے ہیں۔ عدالت نے واضح کیا کہ کسی بھی مقدمے میں منصفانہ سماعت اور غیر جانبدارانہ تحقیقات بنیادی اصول ہیں، جنہیں ہر صورت برقرار رکھا جانا چاہیے۔
رپورٹس کے مطابق، سپریم کورٹ نے اس تاثر پر ناراضگی ظاہر کی کہ عدلیہ کسی بھی فریق کو منصفانہ ٹرائل کا موقع نہیں دے رہی۔ عدالت نے اپنے ریمارکس میں کہا کہ اسے یقین ہے کہ متاثرہ اور ملزم دونوں فریق تحقیقات میں مکمل تعاون کریں گے اور جو بھی تحقیقاتی ادارہ چاہے ریاستی ایجنسی ہو یا سی بی آئی اس معاملے کی جانچ کر رہا ہے، وہ حقائق کو منطقی انجام تک پہنچاتے ہوئے سچ سامنے لائے گا۔
اس کیس کی سماعت چیف جسٹس سوریہ کانت، جسٹس جوئے مالیہ باغچی اور جسٹس وپل ایم پنچولی پر مشتمل بنچ نے کی۔ سماعت کے دوران عدالت نے میڈیا کو بھی ذمہ داری کا احساس دلایا اور ہدایت دی کہ وہ کسی ایک فریق کے بیانات کی بنیاد پر نتائج اخذ کرنے یا دعوے کرنے سے گریز کرے۔ عدالت کے ان ریمارکس کو عدالتی عمل میں اعتماد، میڈیا کی ذمہ داری اور حساس مقدمات کی رپورٹنگ کے اصولوں کے تناظر میں اہم قرار دیا جا رہا ہے۔