Thursday, September 10, 2026 | 26 ربيع الأول 1448
  • News
  • »
  • کاروبار
  • »
  • ایران جنگ کے باعث تیل کی قیمتوں میں فوری کمی کا امکان نہیں، ٹرمپ

ایران جنگ کے باعث تیل کی قیمتوں میں فوری کمی کا امکان نہیں، ٹرمپ

    Reported By: Munsif News Bureau | Edited By: MD Shahbaz | Last Updated: Sep 10, 2026 IST

ایران جنگ کے باعث تیل کی قیمتوں میں فوری کمی کا امکان نہیں، ٹرمپ
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ ایران جنگ کے باعث تیل کی قیمتوں میں فوری طور پر کمی آنے کی توقع نہیں ہے۔ ان کے مطابق تیل کی قیمتیں امریکی وسط مدتی انتخابات کے بعد ہی نمایاں طور پر نیچے آسکتی ہیں۔ ٹرمپ نے کہا کہ انتخابات ختم ہوتے ہی تیل کی قیمتوں میں تیزی سے کمی متوقع ہے، تاہم انہوں نے یہ بھی واضح کیا کہ قیمتوں میں کمی کے لیے وسط مدتی انتخابات سے کچھ زیادہ وقت لگ سکتا ہے۔
 
گزشتہ روز عالمی مارکیٹ میں خام تیل کی قیمت میں 3 فیصد سے زیادہ کا اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔ بین الاقوامی مارکیٹ میں خام تیل کی قیمت 100 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کر گئی، جو جولائی کے بعد پہلی مرتبہ اس سطح پر پہنچی ہے۔ ٹرمپ نے یہ بات ڈلاس روانگی سے قبل صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہی۔ وہ ڈلاس میں وسط مدتی انتخابات کے سلسلے میں ریپبلکن پارٹی کے کنونشن میں شرکت کرنے والے تھے۔
 
ایران جنگ کے باعث عالمی توانائی مارکیٹ میں تیل کی سپلائی اور قیمتوں کو لے کر خدشات میں اضافہ ہوا ہے۔ خام تیل کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ کا اثر دنیا کے مختلف ممالک کی معیشتوں اور صارفین پر بھی پڑ سکتا ہے۔ ٹرمپ کے بیان کے بعد اب عالمی مارکیٹ کی توجہ اس بات پر ہے کہ جنگ کی صورتحال کس سمت جاتی ہے اور اس کا تیل کی عالمی سپلائی اور قیمتوں پر کتنا اثر پڑتا ہے۔
 
جنگ کا آغاز 
 
28 فروری 2026 کو امریکہ اور اسرائیل نے مشترکہ طور پر ایران پر بڑے پیمانے پر فضائی حملے کیے۔ ان ابتدائی حملوں میں ایران کی اعلیٰ قیادت کو بھی نشانہ بنایا گیا۔ جس میں ایران کے سپریم لیڈر کی موت ہو گئی تھی۔ جس کے بعد ایران اور اس کے اتحادیوں (جیسے خطے میں موجود مختلف ملیشیا گروہوں اور حزب اللہ) نے جوابی کارروائی کرتے ہوئے خلیجی ممالک میں موجود امریکی فوجی اڈوں، تنصیبات اور اسرائیل کو میزائل اور ڈرون حملوں کا نشانہ بنایا۔  
 
جنگ کے آغاز ہی سے آبنائے ہرمز میں کشیدگی عروج پر پہنچ گئی۔ ایران اور امریکہ کے درمیان اس اہم بحری راستے کی ناکہ بندی اور کنٹرول کے تنازعے پر کئی بار جھڑپیں ہوئیں، جس کی وجہ سے بین الاقوامی تجارت اور تیل کی سپلائی لائن شدید متاثر ہوئی۔ اس طویل اور جاری تنازعے کی وجہ سے عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں غیر معمولی اضافہ دیکھا گیا ہے۔ تیل کی ترسیل متاثر ہونے کی وجہ سے دنیا بھر کے معاشی بازاروں پر دباؤ بڑھا ہے۔ سال کے دوران کئی بار عارضی جنگ بندی، پاکستان اور دیگر ممالک کی ثالثی میں مذاکرات (جیسے اسلام آباد مذاکرات) اور سفارتی کوششیں کی گئیں، تاہم فریقین کے درمیان پائیدار امن معاہدہ طے نہ پا سکنے کی وجہ سے وقفے وقفے سے جھڑپیں اور کشیدگی کا سلسلہ اب بھی جاری ہے۔