Monday, September 28, 2026 | 14 ربيع الآخر 1448
  • News
  • »
  • جرائم/حادثات
  • »
  • فرید آباد: گہرے بورویل میں گری 3 سالہ بچی کو بچانے کی10 گھنٹوں کی جدوجہد ناکام

فرید آباد: گہرے بورویل میں گری 3 سالہ بچی کو بچانے کی10 گھنٹوں کی جدوجہد ناکام

Reported By: Munsif News Bureau | Edited By: Afreen Begum | Last Updated: 28 Sept 2026

 فرید آباد: گہرے بورویل میں گری 3 سالہ بچی کو بچانے کی10 گھنٹوں کی جدوجہد ناکام
فرید آباد کے سیہی گاؤں میں 250 فٹ گہرے بورویل میں گری تین سالہ بچی تقریباً 10 گھنٹے تک جاری ریسکیو کاروائی کے بعد ہلاک ہوگئی۔ نیہا نامی بچی کو پیر 28 ستمبر کی رات تقریباً 3:50 بجے بورویل سے باہر نکالا گیا اور فوری طور پر ہسپتال لے جایا گیا، جہاں ڈاکٹروں نے اسے مردہ قرار دے دیا۔
 
نیہا اتوار کی شام دوسرے بچوں کے ساتھ بورویل کے قریب کھیل رہی تھی، اسی دوران وہ اس میں گر گئی۔ ریسکیو کاروائی کے دوران بورویل کے اندر کیمرہ اتارا گیا اور کچھ دیر تک بچی کے رونے کی آواز بھی سنائی دی۔ اسے زندہ رکھنے کے لیے بورویل کے اندر آکسیجن بھی پہنچائی جا رہی تھی۔
 

 بچی بورویل میں کیسے گری؟

 
یہ واقعہ اتوار کی شام سیہی گاؤں میں پیش آیا۔ قریب ہی ایک ٹریکٹر کھڑا تھا، جس پر بچے کھیل رہے تھے۔ بتایا گیا ہے کہ اسی دوران نیہا کا پاؤں پھسل گیا اور وہ کھلے بورویل میں جاگری۔ دوسرے بچوں نے شور مچا کر آس پاس کے لوگوں کو واقعے کی اطلاع دی۔
 
واقعے کی اطلاع ملتے ہی نیشنل ڈیزاسٹر رسپانس فورس (NDRF)، ہریانہ اسٹیٹ ڈیزاسٹر رسپانس فورس (SDRF)، پولیس، فائر سروس، طبی عملے اور میونسپل کارپوریشن کی ٹیموں نے امدادی کاروائی شروع کردی۔ اندھیرے کی وجہ سے امدادی کام میں دشواری پیش آئی، جس کے بعد بورویل کے آس پاس لائٹس لگائی گئیں۔ بورویل کے اندر کیمرہ اتارا گیا اور بچی تک آکسیجن پہنچانے کا انتظام بھی کیا گیا۔
 
NDRF کے ڈپٹی کمانڈنٹ کنال تیواری نے بتایا کہ کنٹرول روم کو شام 7:45 بجے واقعے کی اطلاع ملی، جبکہ NDRF کی ٹیم رات 9:05 بجے جائے وقوعہ پر پہنچی۔ امدادی کاروائی میں ہریانہ SDRF، ریاستی پولیس، فائر سروس، اتر پردیش سول ڈیفنس، محکمہ صحت اور میونسپل کارپوریشن کی ٹیموں نے حصہ لیا۔ بچی کو رات تقریباً 3:50 بجے بورویل سے باہر نکالا گیا اور فوری طور پر طبی امداد کے لیے ہسپتال لے جایا گیا، لیکن ڈاکٹروں نے اسے مردہ قرار دے دیا۔
 

 بورویل تقریباً 10 سال سے غیر فعال تھا

 
بچی کے والد رام دین نے بتایا کہ یہ بورویل فرید آباد میونسپل کارپوریشن کی ملکیت ہے اور کئی سال سے غیر فعال پڑا تھا۔ تازہ رپورٹس کے مطابق یہ بورویل تقریباً 10 سال سے استعمال میں نہیں تھا۔ اس کے اوپر پہلے ڈھکن لگا ہوا تھا، لیکن واقعے سے چند دن پہلے ڈھکن ہٹ گیا یا غائب ہوگیا، جس کے بعد بورویل کھلا رہ گیا۔
 
رام دین کے مطابق بورویل سیہی گاؤں میں بلدیاتی ادارے کی زمین پر واقع ہے۔ انہوں نے بتایا کہ وہ اس وقت کام پر تھے جب گاؤں والوں نے انہیں اپنی بیٹی کے بورویل میں گرنے کی اطلاع دی۔ وہ بنیادی طور پر اتر پردیش کے مین پوری کے رہنے والے ہیں اور کئی سال سے سیہی گاؤں میں اپنی بیوی اور بچوں کے ساتھ رہ کر مزدوری کر رہے ہیں۔
 
واقعے کے بعد اس بات پر بھی سوال اٹھ رہے ہیں کہ غیر فعال بورویل کو کھلا کیوں چھوڑا گیا اور اس کے ڈھکن کو ہٹنے کے بعد دوبارہ محفوظ کیوں نہیں کیا گیا۔ حکام کی جانب سے اس معاملے کے حالات کا جائزہ لیا جا رہا ہے۔
 

امبالہ میں بھی بورویل میں گرنے سے بچے کی موت

 
اس سے قبل جون میں ہریانہ کے ضلع امبالہ کے دھنّوڑا گاؤں میں بھی ایسا ہی واقعہ پیش آیا تھا۔ وہاں تقریباً ساڑھے تین سالہ بچے نرویر سنگھ کے 220 فٹ گہرے کھلے بورویل میں گرنے کے بعد تقریباً 20 گھنٹے 25 منٹ تک امدادی کاروائی جاری رہی۔ بچے کو بدھ کی صبح تقریباً 3:25 بجے بورویل سے باہر نکالا گیا، لیکن اس کی پہلے ہی موت ہو چکی تھی۔ اس واقعے کے بعد کھلے بورویل کے حوالے سے حفاظتی انتظامات پر بھی سوال اٹھے تھے اور زمین کے مالک سمیت تین افراد کے خلاف مقدمہ درج کیا گیا تھا۔