Saturday, October 31, 2026 | 19 جمادى الأولى 1448
  • News
  • »
  • فلمیں/ طرززندگی
  • »
  • اداکارہ سُنائنا کا بے ہودہ اے آئی ویڈیو پر سخت ردعمل۔ اے آئی کے غلط استعمال پر آواز اٹھانے کی اپیل

اداکارہ سُنائنا کا بے ہودہ اے آئی ویڈیو پر سخت ردعمل۔ اے آئی کے غلط استعمال پر آواز اٹھانے کی اپیل

Reported By: Munsif News Bureau | Edited By: Mohammed Imran Hussain | Last Updated: 30 Oct 2026

اداکارہ سُنائنا کا بے ہودہ اے آئی ویڈیو پر سخت ردعمل۔  اے آئی کے غلط استعمال   پر  آواز اٹھانے کی اپیل
چنئی سے تعلق رکھنے والی معروف اداکارہ سُنائنا نے سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی ان کی شکل و شباہت سے منسوب ایک اے آئی ویڈیو کے خلاف بھرپور آواز اٹھائی ہے اور کہا ہے کہ خواتین کی سلامتی کے حساس ماحول میں اس طرح کی ڈیجیٹل استحصال انگیز حرکتیں نہایت پریشان کن اور ناقابلِ قبول ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ وہ اس ویڈیو کے خالقین اور اسے پھیلانے والوں کے خلاف قانونی کاروائی سے گریز نہیں کریں گی، کیونکہ یہ ان کی رضامندی کے بغیر بنایا گیا اور اُن کی شناخت اور وقار پر براہِ راست حملہ ہے۔
 
سُنائنا نے جمعہ کے روز جاری کردہ اپنے دوسرے تفصیلی بیان میں کہا کہ جب خواتین کی حفاظت پہلے ہی ایک سنگین مسئلہ بنی ہوئی ہے تو یہ امر مزید دل دہلا دینے والا ہے کہ ہمیں اب بھی اپنی بنیادی شناخت کے استحصال کے خلاف لڑنا پڑ رہا ہے۔ ان کے مطابق اس واقعے نے ان میں غصہ اور نفرت کو جنم دیا ہے، لیکن اس سے بڑھ کر تشویش اس بات پر ہے کہ کس آسانی اور بے فکری سے کسی خاتون کی تصویر یا ویڈیو کو اس کی اجازت کے بغیر بگاڑا جا سکتا ہے، جیسے اس کی رضامندی، اس کے احساسات اور اس کی آواز کی کوئی اہمیت ہی نہ ہو۔ انہوں نے ایسے تمام افراد کی مذمت کی جو اس نوعیت کے مواد کی تیاری یا ترسیل میں ملوث ہیں۔
 
اداکارہ نے واضح کیا کہ وہ اس واقعے کو اپنی روزمرہ زندگی، ذہنی سکون اور اپنے کیریئر کی سمت پر حاوی نہیں ہونے دیں گی۔ ان کا کہنا تھا کہ کسی دوسرے کے غیر ذمہ دارانہ عمل کو اپنی زندگی کی تعریف بننے دینا انصاف نہیں، تاہم یہ سمجھنا بھی لازم ہے کہ اس نوعیت کا گھڑا ہوا مواد بے ضرر نہیں ہوتا بلکہ ایک سنگین خلاف ورزی ہے جسے اسی درجے میں دیکھا اور سمجھا جانا چاہیے۔ انہوں نے زور دے کر کہا کہ یہ محض آن لائن شرارت نہیں بلکہ اخلاقی اور قانونی دونوں پیمانوں پر جرم کے زمرے میں آتا ہے۔
 
سُنائنا نے مداحوں اور عوام سے براہِ راست مخاطب ہو کر اپیل کی کہ وہ ایسے مواد کے ساتھ ہرگز مشغول نہ ہوں جو کسی کی شناخت یا عزت کو نشانہ بناتا ہو۔ ان کے مطابق ہر شخص کا ایک کردار ہے: جو کچھ آپ دیکھتے ہیں اس پر سوال اٹھائیں، شیئر کرنے سے پہلے اس کی حقیقت جانچیں، اور جہاں بھی اس طرح کے مواد کی گردش نظر آئے وہاں بے خوف ہو کر آواز بلند کریں۔ ان کے مطابق بظاہر یہ چھوٹے فیصلے لگتے ہیں مگر اجتماعی طور پر یہی رویے ہمارے ڈیجیٹل ماحول اور سماجی اقدار کی تشکیل کرتے ہیں۔
 
واقعہ کب اور کیسے سامنے آیا؟ اداکارہ نے پیر کے روز اپنے پہلے بیان میں اعتراف کیا تھا کہ ان کی نسبت سے منسوب ایک اے آئی سے تیار کردہ فحش ویڈیو مختلف پلیٹ فارمز پر پھیل رہی ہے۔ انہوں نے اس عمل کو “شرمناک، مذموم اور گھناؤنا” قرار دیتے ہوئے سخت ترین الفاظ میں مذمت کی۔ سُنائنا کے مطابق یہ فعل جنسی ہراسانی کے دائرے میں آتا ہے، ان کی ساکھ کو متاثر کرتا ہے اور ہندوستان کے قوانین، بشمول انفارمیشن ٹیکنالوجی ایکٹ 2000 اور بھارتیہ نیایا سنہیتا 2023 کے تحت قابلِ تعزیر جرم ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ایسے طرزِ عمل کو کسی صورت برداشت نہیں کیا جائے گا۔ فی الوقت یہ واضح نہیں کہ انہوں نے اس معاملے میں کوئی باضابطہ پولیس شکایت درج کرائی ہے یا نہیں۔