اسلام آباد ہائی کورٹ کے جج جسٹس محسن اختر کیانی نے اپنے عہدے سے استعفیٰ دے دیا ہے۔ ان کا یہ غیر معمولی قدم عدلیہ کے اندرونی نظم و نسق، ججوں کی تقرری اور تبادلوں کے طریق کار، اور ریاستی ایگزیکٹو کے اثر و رسوخ کے متعلق بڑھتی ہوئی تشویش کے پس منظر میں سامنے آیا ہے۔ انہوں نے اپنے استعفے میں یہ موقف اختیار کیا کہ ایگزیکٹو اداروں کا عمل دخل عدالتی خودمختاری اور شفافیت کے بنیادی اصولوں سے متصادم ہو رہا ہے اور یہ مداخلت اب محض انتظامی نوعیت تک محدود نہیں رہی بلکہ ججوں کی تقرری، تعیناتی اور تبادلوں تک پھیل چکی ہے۔
ابتدائی معلومات کے مطابق جسٹس محسن اختر کیانی نے اپنا استعفیٰ آئینی طریقہ کار کے مطابق جمع کرایا، جس کے بعد یہ صدرِ مملکت کو ارسال کیا گیا ہے تاکہ اسے آئینی تقاضوں کے مطابق منظور کیا جا سکے۔ اگرچہ سرکاری سطح پر مکمل تفصیلات جاری نہیں کی گئیں، مگر باخبر حلقوں کا کے مطابق، انہوں نے اپنے فیصلے کی وجوہات میں عدالتی آزادی کی کمزوری اور عدالتی معاملات میں غیر ضروری اثراندازی کے خدشات کو نمایاں کیا۔ اس پیش رفت نے قانونی برادری، انسانی حقوق کے کارکنوں اور سیول سوسائٹی میں ایک نئی بحث کو جنم دیا ہے کہ عدلیہ کی آزادی کے تحفظ کے لیے کیا عملی اقدامات ضروری ہیں اور موجودہ ڈھانچے میں شفافیت کیسے بڑھائی جا سکتی ہے۔
قانونی ماہرین کے مطابق پاکستان میں ججوں کی تقرری کے لیے جوڈیشل کمیشن اور ان کی منظوری کے لیے سپریم جوڈیشل کونسل سمیت متعدد فورمز کا ایک مربوط فریم ورک موجود ہے، مگر اعتراض یہ ہے کہ غیر مرئی دباؤ، انتظامی تاخیر اور مشاورت کے غیر شفاف مراحل کے سبب میرٹ اور ادارہ جاتی خودمختاری متاثر ہو سکتی ہے۔ جسٹس محسن اختر کیانی کے مؤقف نے اسی خدشے کو مرکزی نکتہ بنایا کہ جب تقرری اور تبادلوں کے فیصلے دباؤ یا بیرونی ترجیحات کے تابع محسوس ہوں تو بینچ کی ساکھ اور انصاف پر عوام کا اعتماد متزلزل ہوتا ہے۔
اسلام آباد ہائی کورٹ ملک کے اہم ترین آئینی اور انتظامی مقدمات کی سماعت کرتی ہے، اس لیے اس کے کسی جج کا استعفیٰ محض ذاتی فیصلہ نہیں سمجھا جاتا بلکہ اسے ایک ادارہ جاتی اشارہ تصور کیا جاتا ہے۔ عدالتی حلقوں میں سوال اٹھایا جا رہا ہے کہ آیا اس فیصلے کے پس منظر میں کوئی مخصوص مقدمات، احکامات یا انتظامی تنازعات کارفرما تھے، یا یہ ایک وسیع تر اصولی مؤقف ہے جس کا مقصد نظامی اصلاحات کی طرف توجہ دلانا ہے۔ تاحال اس سوال کا حتمی جواب سامنے نہیں آیا، مگر یہ طے ہے کہ اس اعلان نے اصلاحات، شفافیت اور احتساب کے ایجنڈے کو ایک بار پھر مرکزِ بحث بنا دیا ہے۔
سابق جج صاحبان اور بار ایسوسی ایشنز کے نمائندے یہ کہتے ہیں کہ حالات نے اس نکتے کو مزید اہم بنا دیا ہے کہ ججوں کی تعیناتی اور تبادلوں کے قواعد واضح، معروضی اور بروقت ہوں، اور فیصلوں کی وجوہات اصولی بنیادوں پر تحریری شکل میں سامنے آئیں۔ ان کے مطابق ایسے معیارات نہ صرف بینچ کی آزادی کی ضمانت دیتے ہیں بلکہ بار اور عوام کے لیے بھی یہ اطمینان پیدا کرتے ہیں کہ انصاف نہ صرف ہو رہا ہے بلکہ ہوتا ہوا نظر بھی آ رہا ہے۔ کچھ وکلا رہنماؤں نے حکومت اور عدلیہ دونوں سے کہا ہے کہ وہ اس موقع کو ادارہ جاتی نقطۂ نظر سے ایک اصلاحی سنگ میل بنائیں، جہاں غیر ضروری انتظامی اثرات کی حوصلہ شکنی ہو اور تقرری کے عمل میں کارکردگی، اہلیت اور دیانت کو اولیت دی جائے۔
سیاسی منظرنامے میں بھی اس پیش رفت کے مضمرات زیر بحث ہیں۔ حکومتی حلقے سرکاری طور پر محتاط ردعمل دیتے ہوئے کہتے ہیں کہ آئینی اداروں کا احترام مقدم ہے اور تعیناتی کے تمام مراحل قانون کے مطابق انجام پاتے ہیں۔







