Saturday, November 07, 2026 | 26 جمادى الأولى 1448
  • News
  • »
  • عالمی منظر
  • »
  • پیراگوئے میں یوینو بینک کے بحران سے سیاسی ہلچل، صدر کے خلاف مواخذے کی کارروائی تیز

پیراگوئے میں یوینو بینک کے بحران سے سیاسی ہلچل، صدر کے خلاف مواخذے کی کارروائی تیز

Reported By: Munsif News Bureau | Edited By: Md Shahbaz | Last Updated: 07 Nov 2026

پیراگوئے میں یوینو بینک کے بحران سے سیاسی ہلچل، صدر کے خلاف مواخذے کی کارروائی تیز
پیراگوئے میں یوینو بینک کے اچانک بحران نے ملک کو ایک بڑے سیاسی اور مالیاتی بحران سے دوچار کر دیا ہے۔ بینک کے ڈوبنے کے بعد صدر سانتیاگو پینا کے خلاف مواخذے کی کارروائی تیز ہو گئی ہے۔ جمعرات کو پینا نے اپنے عہدے سے مستعفی ہونے کا اعلان کیا، تاہم سیاست دانوں نے باضابطہ طور پر ان کے خلاف مواخذے کی دفعات بھی پیش کر دیں۔ سابق آئی ایم ایف ماہرِ معیشت پینا نے مؤقف اختیار کیا کہ انہیں اپنا دفاع پیش کرنے کے لیے صرف 12 گھنٹے دیے گئے ہیں۔ اسی لیے انہوں نے جواب جمع کرانے کے لیے 72 گھنٹے کی مہلت مانگی۔ لیکن جمعہ کو سینیٹ نے غیر معمولی اجلاس طلب کر کے انہیں عہدے سے ہٹانے کی کارروائی آگے بڑھا دی۔
 
یوینو بینک کیسے بنا ملک کا بڑا مالیاتی ادارہ؟
 
یوینو بینک کی بنیاد 1976 میں رکھی گئی تھی۔ اس کی مادر کمپنی گروپو واسکیز میں صدر پینا مارچ 2025 تک حصہ داری رکھتے تھے۔ بینک کو 2023 میں مکمل بینکنگ لائسنس ملا، جس کے بعد اس نے تیزی سے اپنا کاروبار پھیلایا۔ نقد رقم نکلوانے پر مختلف ترغیبات، 70 سے زائد برانچوں کے نیٹ ورک اور ملک کی قومی فٹبال ٹیم کی سرپرستی کے ذریعے یوینو نے عوام میں اپنی پہچان بنائی۔ بینک نے دعویٰ کیا تھا کہ اس کے تقریباً 30 لاکھ صارفین ہیں، جو پیراگوئے کی بالغ آبادی کا لگ بھگ 60 فیصد بنتے ہیں۔ مرکزی بینک کے مطابق، یوینو کے پاس عوام کی تقریباً 80 کروڑ ڈالر کی رقم موجود تھی۔ اس میں ریاستی پنشن اور صحت کے فنڈز کے تقریباً 38 کروڑ ڈالر بھی شامل تھے۔
 
بینک کے اکاؤنٹس منجمد، لاکھوں صارفین پریشان
 
پیر کے روز پیراگوئے کے مرکزی بینک نے یوینو کو ریزولوشن کے عمل میں ڈال دیا۔ یہ فیصلہ اس وقت کیا گیا جب بینک کا مالی استحکام ظاہر کرنے والا سالوینسی ریشو قانونی حد کے نصف سے بھی کم رہ گیا۔ اس کارروائی کے تحت بینک کے ڈپازٹس دوسری مالیاتی تنظیموں کو منتقل کیے جا سکتے ہیں، لیکن اکاؤنٹس منجمد ہونے سے لاکھوں صارفین مشکلات کا شکار ہو گئے ہیں۔ عام شہریوں، ریٹائرڈ افراد اور ملازمین کو اپنی جمع پونجی اور تنخواہوں تک رسائی میں پریشانی کا سامنا ہے۔ تقریباً 30 لاکھ صارفین نقد رقم نکالنے، ڈیجیٹل ادائیگیاں کرنے اور کارڈ استعمال کرنے سے محروم ہو گئے ہیں۔
 
اندرونی افراد کو کروڑوں ڈالر کے قرضے دینے کا الزام
 
اخبار اے بی سی کالر کی رپورٹ اور مرکزی بینک کے نگران حکام کے مطابق، یوینو بینک میں مالی بے ضابطگیوں کے کئی معاملات سامنے آئے ہیں۔ رپورٹ میں الزام لگایا گیا ہے کہ بینک نے اندرونی افراد اور گروپو واسکیز سے وابستہ کمپنیوں کو بڑے پیمانے پر قرضے دیے، جبکہ ان قرضوں کے لیے ضروری دستاویزات اور ضمانتیں بھی ناکافی تھیں۔ اطلاعات کے مطابق، گروپو واسکیز سے منسلک کمپنیوں کو تقریباً 14 کروڑ 60 لاکھ ڈالر کے قرضے دیے گئے، جو قانونی حد سے زیادہ تھے۔ ان قرضوں کے مقابلے میں مناسب ضمانت بھی موجود نہیں تھی۔ بعد میں بینک کے مالی ریکارڈ کی دوبارہ جانچ اور حساب کتاب درست کیے جانے پر اس کا سرمایہ قانونی طور پر مقررہ کم از کم حد کے نصف سے بھی کم پایا گیا۔
 
مالیاتی بحران نے حکومت کو مشکل میں ڈال دیا
 
یوینو بینک کا بحران اب صرف صارفین اور مالیاتی نظام تک محدود نہیں رہا بلکہ اس نے پیراگوئے کی سیاست کو بھی ہلا کر رکھ دیا ہے۔ صدر سانتیاگو پینا کے خلاف مواخذے کی کارروائی اسی بحران کے دوران آگے بڑھی ہے۔ اب ملک کی نظریں اس بات پر ہیں کہ بینک کے صارفین کی جمع پونجی اور ریاستی اداروں کے فنڈز کا تحفظ کیسے کیا جائے گا، جبکہ صدر کے خلاف مواخذے اور ان کے سیاسی مستقبل کا فیصلہ بھی اہمیت اختیار کر گیا ہے۔