Saturday, October 17, 2026 | 05 جمادى الأولى 1448
  • News
  • »
  • سیاست
  • »
  • حکومت کی مخالفت کریں، خامیاں اجاگر کریں، ریجیم چینج تنازع پر پی چدمبرم کا جواب

حکومت کی مخالفت کریں، خامیاں اجاگر کریں، ریجیم چینج تنازع پر پی چدمبرم کا جواب

Reported By: Munsif News Bureau | Edited By: Md Shahbaz | Last Updated: 17 Oct 2026

حکومت کی مخالفت کریں، خامیاں اجاگر کریں، ریجیم چینج تنازع پر پی چدمبرم کا جواب
چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کے خلاف احتجاج کے دوران ’ریجیم چینج‘ یعنی اقتدار کی تبدیلی کی بات کو لیکر سیاسی بحث تیز ہو گئی ہے۔ کانگریس کے سینئر رہنما اور سابق مرکزی وزیر پی چدمبرم نے اس بیان کا دفاع کرتے ہوئے کہا ہے کہ جمہوریت میں حکومت کی تبدیلی ایک معمول کی بات ہے۔ انہوں نے بی جے پی کے ردعمل پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ اپوزیشن کی ذمہ داری ہے کہ وہ حکومت کی مخالفت کرے، اس کی خامیوں کو سامنے لائے اور انتخابات کے ذریعے اسے اقتدار سے ہٹانے کی کوشش کرے۔
 
پی چدمبرم نے ہفتے کے روز سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر ایک پوسٹ میں لکھا کہ بی جے پی ’اقتدار کی تبدیلی‘ کی اصطلاح استعمال کرنے پر اتنی ناراض کیوں ہے؟ ان کے مطابق جمہوریت میں حکومت کا بدلنا ایک عام سیاسی عمل ہے۔ انہوں نے کہا کہ اپوزیشن کا کام صرف حکومت کی مخالفت کرنا ہی نہیں، بلکہ پارلیمنٹ میں اس کی ناکامیوں کی نشاندہی کرنا اور انتخابات کے ذریعے اسے اقتدار سے ہٹانے کی کوشش کرنا بھی ہے۔ چدمبرم نے اپنے موقف کو مختصر الفاظ میں بیان کرتے ہوئے کہا کہ حکومت کی مخالفت کی جائے، اس کی خامیوں کو سامنے لایا جائے اور انتخابی عمل کے ذریعے اسے تبدیل کیا جائے۔
 
یہ تنازعہ اس وقت شروع ہوا جب سینئر وکیل پرشانت بھوشن نے چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کے خلاف جاری احتجاج کو ’اقتدار کی تبدیلی کی لڑائی‘ قرار دیا۔ اسی دوران طالب علم کارکن نیہا بورا نے بنگلہ دیش میں ہونے والی ’جنریشن زیڈ‘ یعنی نوجوانوں کی تحریک کا حوالہ دیا۔ بی جے پی نے ان بیانات پر اعتراض کرتے ہوئے الزام لگایا کہ ان کے ذریعے وزیر اعظم نریندر مودی کی قیادت والی حکومت کو معمول کے انتخابی عمل کے بجائے دوسرے طریقوں سے ہٹانے کی بات کی جا رہی ہے۔ تاہم، اپوزیشن نے اس الزام کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ پرامن احتجاج اور انتخابات کے ذریعے حکومت تبدیل کرنے کا مطالبہ جمہوری حق ہے۔
 
اس معاملے پر بی جے پی کے کئی سینئر رہنماؤں نے اپوزیشن کے بیانات پر اعتراض کیا ہے۔ ان میں وزیر دفاع راج ناتھ سنگھ، پارٹی صدر نتن نبین، اتر پردیش بی جے پی صدر پنکج چودھری، راجیہ سبھا کے رکن سدھانشو ترویدی، مرکزی وزیر دھرمیندر پردھان اور مہاراشٹر کے وزیر اعلیٰ دیویندر فڑنویس شامل ہیں۔ بی جے پی کے ترجمان پردیپ بھنڈاری اور سمبت پاترا نے بھی ان بیانات پر سوال اٹھائے ہیں۔ بی جے پی کا موقف ہے کہ بنگلہ دیش کی نوجوانوں کی تحریک کا حوالہ اور احتجاج کے دوران استعمال ہونے والی زبان سیاسی عدم استحکام پیدا کرنے کی کوشش کی طرف اشارہ کرتے ہیں۔
 
یہ بحث چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کے خلاف جاری احتجاج کے پس منظر میں سامنے آئی ہے۔ مظاہرین انتخابی عمل میں مبینہ بے ضابطگیوں پر سوال اٹھا رہے ہیں، جبکہ بی جے پی اور اپوزیشن ایک دوسرے کے بیانات پر اعتراض کر رہے ہیں۔ ایک طرف کانگریس کا کہنا ہے کہ حکومت کی مخالفت اور انتخابات کے ذریعے اقتدار کی تبدیلی جمہوریت کا حصہ ہے، تو دوسری طرف بی جے پی ان بیانات کو سیاسی عدم استحکام سے جوڑ رہی ہے۔ اس طرح ’ریجیم چینج‘ کی اصطلاح اب چیف الیکشن کمشنر کے خلاف احتجاج کے ساتھ ساتھ ایک بڑی سیاسی بحث کا موضوع بن گئی ہے۔