امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے روس کے خلاف نئی پابندیوں سے متعلق قانون کی بعض شقوں پر عمل درآمد سے استثنیٰ دے دیا ہے۔ ٹرمپ نے اس فیصلے کی وجہ امریکہ کا قومی مفاد بتائی ہے۔ اس قانون میں ایسی شق بھی شامل تھی جس کے تحت چین اور بھارت جیسے ممالک سے امریکہ آنے والی اشیاء پر 100 فیصد تک ٹیرف عائد کیا جا سکتا تھا۔ ٹرمپ کے اس فیصلے سے بھارت پر ممکنہ بھاری امریکی محصولات کا خطرہ فی الحال ٹل سکتا ہے۔ ٹرمپ نے ایک صدارتی حکم نامے کے ذریعے قانون میں موجود استثنیٰ کے اختیار کا استعمال کیا۔ انہوں نے کہا کہ وہ امریکی کانگریس کو مطلع کر چکے ہیں کہ پابندیوں اور محصولات سے متعلق اقدامات پر عمل درآمد سے چھوٹ دینا اس وقت امریکہ کے قومی مفاد میں ہے۔
بھارت روس سے خام تیل خریدتا رہا ہے۔ ایسے میں اگر امریکہ بھارتی مصنوعات پر بھاری ٹیرف عائد کرتا تو بھارتی برآمد کنندگان اور امریکی منڈی میں کاروبار کرنے والی کمپنیوں کو نقصان پہنچ سکتا تھا۔ اضافی محصولات سے بھارتی مصنوعات کی قیمتیں بڑھنے اور امریکی منڈی میں ان کی مسابقت متاثر ہونے کا خدشہ بھی پیدا ہو سکتا تھا۔موجودہ استثنیٰ سے بھارت کو عارضی ریلیف مل سکتا ہے، تاہم اس کا مطلب یہ نہیں کہ مستقبل میں ٹیرف عائد کرنے کا امکان مکمل طور پر ختم ہو گیا ہے۔ اگر امریکی پالیسی تبدیل ہوتی ہے یا پابندیوں سے متعلق نئے اقدامات کیے جاتے ہیں تو بھارت کو دوبارہ اس مسئلے کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔
اس قانون کا مقصد یوکرین کے خلاف روس کی جنگ میں اس کی مدد کرنے والے ممالک اور فریقین پر معاشی دباؤ بڑھانا تھا۔ قانون کے تحت صدر ٹرمپ کو روس کے ساتھ تجارت جاری رکھنے والے ممالک پر اضافی محصولات عائد کرنے کا اختیار دیا گیا تھا۔ اس کا مقصد ایسے ممالک کو روس کے ساتھ تجارتی تعلقات محدود کرنے پر مجبور کرنا تھا۔ تاہم، قانون میں صدر کو پابندیوں اور محصولات کے نفاذ سے استثنیٰ دینے کا اختیار بھی حاصل تھا۔
ٹرمپ نے اپنے حکم نامے میں کہا کہ وہ متعلقہ قانون کے تحت عائد پابندیوں، رکاوٹوں اور محصولات کے نفاذ کو ختم یا معطل کر رہے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ وہ کانگریس کو اس بات سے آگاہ کر چکے ہیں کہ اس طرح کی چھوٹ دینا امریکہ کے قومی مفاد میں ہے۔ قانون کے تحت صدر کو اس فیصلے کے بارے میں کانگریس کو مطلع کرنا ضروری تھا۔ فراہم کردہ تفصیلات کے مطابق، قانون کے نفاذ میں صرف دو دن باقی تھے جب ٹرمپ نے اپنے اختیار کا استعمال کیا۔
ٹرمپ کے فیصلے سے بھارت سمیت ان ممالک کو ممکنہ طور پر وقتی راحت مل سکتی ہے جو روس کے ساتھ تجارت کرتے ہیں۔ خاص طور پر بھارتی برآمدات پر 100 فیصد تک ٹیرف عائد ہونے کا خدشہ بھارتی کاروبار کے لیے تشویش کا باعث بن سکتا تھا۔ تاہم، مستقبل میں بھارت پر امریکی تجارتی پالیسی کے اثرات کا انحصار واشنگٹن کے اگلے فیصلوں اور روس کے ساتھ تجارت کے معاملے پر امریکی حکومت کے مؤقف پر ہوگا۔






