ریزرو بینک آف انڈیا (RBI) نے خام تیل کی قیمتوں میں اضافے اور روپے پر بڑھتے دباؤ کے پیشِ نظرتیل کمپنیوں کے لیے ڈالر کی فراہمی کی ایک خصوصی سہولت شروع کرنے کا اعلان کیا ہے۔ اس اقدام کے تحت انڈین آئل کارپوریشن، ہندوستان پیٹرولیم کارپوریشن اور بھارت پیٹرولیم کارپوریشن اپنی روزانہ کی ڈالر کی ضروریات اس سہولت کے ذریعے پوری کر سکیں گی۔ آر بی آئی کے مطابق، یہ انتظام 12 اکتوبر 2026 سے نافذ ہوگا اور اگلے حکم تک جاری رہے گا۔ اس کے تحت مرکزی بینک نامزد بینکوں کے ذریعے تینوں کمپنیوں کو ڈالر فراہم کرے گا، تاکہ انہیں خام تیل کی خریداری اور دیگر ضروری ادائیگیوں کے لیے غیر ملکی کرنسی کی کمی کا سامنا نہ کرنا پڑے۔
یہ فیصلہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتیں 100 ڈالر فی بیرل سے اوپر پہنچ گئی ہیں۔ تیل کی قیمتوں میں اضافے سے بھارت جیسے بڑے درآمد کنندہ ملک پر اضافی مالی دباؤ پڑتا ہے، کیونکہ خام تیل کی خریداری کے لیے بڑی مقدار میں ڈالر درکار ہوتے ہیں۔ دستیاب اعداد و شمار کے مطابق، جمعہ کو بھارتی روپیہ امریکی ڈالر کے مقابلے میں 96.73 کی سطح پر بند ہوا تھا۔ روپے کی قدر میں کمی سے تیل کی درآمدات مہنگی ہو سکتی ہیں، جس کے اثرات کمپنیوں کی لاگت اور ملک کے درآمدی بل پر پڑ سکتے ہیں۔ آر بی آئی کی خصوصی سہولت سے تیل کمپنیوں کی ڈالر کی ضروریات پوری کرنے میں مدد ملنے اور روپے پر دباؤ کم ہونے کی توقع ہے۔
بھارت کے زرمبادلہ کے ذخائر میں بھی کمی ریکارڈ کی گئی ہے۔ 2 اکتوبر کو ختم ہونے والے ہفتے کے دوران ان ذخائر میں 12.95 ارب ڈالر کی کمی ہوئی، جس کے بعد مجموعی ذخائر 734.60 ارب ڈالر رہ گئے۔ ایسے حالات میں آر بی آئی کی جانب سے تیل کمپنیوں کو براہِ راست ڈالر فراہم کرنے کا فیصلہ اہمیت رکھتا ہے۔ اس سہولت کے ذریعے مرکزی بینک ان کمپنیوں کی روزانہ کی غیر ملکی کرنسی کی ضروریات پوری کرنے میں مرکزی کردار ادا کرے گا۔
آر بی آئی نے واضح کیا ہے کہ یہ انتظام اگلے حکم تک جاری رہے گا۔ فی الحال اس کے خاتمے کی کوئی مقررہ تاریخ نہیں دی گئی ہے۔ اس کا مطلب ہے کہ مرکزی بینک مارکیٹ کے حالات اور تیل کمپنیوں کی ضروریات کا جائزہ لیتے ہوئے اس سہولت کو جاری رکھنے یا اس میں تبدیلی کرنے کا فیصلہ کر سکتا ہے۔ یہ اقدام تیل کی بڑھتی قیمتوں اور روپے کی قدر میں کمی کے باعث پیدا ہونے والے دباؤ سے نمٹنے کی کوشش ہے۔ تاہم، اس سہولت کے حقیقی اثرات کا انحصار عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں، ڈالر کی طلب اور روپے کی آئندہ قدر پر ہوگا۔







