سپریم کورٹ آج انتخابی فہرستوں کی خصوصی نظرثانی (SIR) کے دوران بڑے پیمانے پر ووٹروں کے نام حذف کرنے اور بے ضابطگیوں کے الزامات سے متعلق درخواست پر سماعت کرے گی۔ کانگریس رہنما راہول گاندھی سمیت کئی اپوزیشن رہنماؤں نے اس معاملے میں عدالت سے رجوع کیا ہے۔ درخواست میں ووٹر لسٹ میں کی گئی تبدیلیوں کی آزادانہ تحقیقات اور اہل ووٹروں کے حقوق کے تحفظ کا مطالبہ کیا گیا ہے۔ سپریم کورٹ کی ویب سائٹ پر جاری 15 اکتوبر کی کاز لسٹ کے مطابق، چیف جسٹس سوریہ کانت اور جسٹس باغچی پر مشتمل بنچ اس معاملے کی سماعت کرے گی۔ راہول گاندھی اور دیگر اپوزیشن رہنماؤں نے پیر کو سپریم کورٹ تک مارچ کرنے کے بعد درخواست دائر کی تھی۔
درخواست گزاروں نے مطالبہ کیا ہے کہ سپریم کورٹ کے کسی ریٹائرڈ جج کی سربراہی میں ایک آزاد کمیٹی تشکیل دی جائے۔ اس کمیٹی میں تکنیکی ماہرین اور دیگر نامور شہریوں کو شامل کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔ درخواست کے مطابق، کمیٹی کو مقررہ مدت کے اندر ایس آئی آر کے دوران ووٹر لسٹ سے حذف کیے گئے ناموں اور دیگر تبدیلیوں کا آزادانہ آڈٹ کرنا چاہیے، تاکہ یہ معلوم ہو سکے کہ نظرثانی کے عمل میں کوئی بے ضابطگی تو نہیں ہوئی۔ درخواست میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ کسی بھی ووٹر کا نام قانونی طریقۂ کار پر عمل کیے بغیر حذف نہیں کیا جانا چاہیے۔ ووٹر کو پہلے نوٹس دیا جائے اور اپنا موقف پیش کرنے کا مناسب موقع فراہم کیا جائے، تاکہ اہل شہری اپنے حقِ رائے دہی سے محروم نہ ہوں۔
سپریم کورٹ آج دہلی میں چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار اور الیکشن کمیشن کی ایس آئی آر پالیسی کے خلاف احتجاج سے متعلق درخواستوں پر بھی سماعت کرے گی۔ ان درخواستوں میں 10 اکتوبر کو ہونے والے مظاہروں کے دوران پبلک ٹرانسپورٹ پر عائد پابندیوں کا معاملہ بھی شامل ہے۔ درخواست گزاروں نے میٹرو اسٹیشنوں کی بندش اور ٹرین سروسز میں خلل جیسے مسائل اٹھائے ہیں۔ عدالت سے یہ توقع بھی کی جا رہی ہے کہ وہ احتجاج کے دوران مظاہرین اور احتجاج کی کوریج کرنے والی خواتین صحافیوں پر مبینہ حملوں سے متعلق درخواستوں پر غور کرے گی۔
سپریم کورٹ نے دہلی پولیس کے ایک سینئر افسر کو بھی طلب کیا ہے، تاکہ وہ خواتین صحافیوں کی جانب سے لگائے گئے ان الزامات کا جواب دے سکیں کہ احتجاج کی کوریج کے دوران ان پر حملے کیے گئے تھے۔اب عدالت کی سماعت میں ووٹر لسٹ کی نظرثانی، احتجاج کے دوران عائد پابندیوں اور صحافیوں کے تحفظ سے متعلق معاملات اہم رہیں گے۔ ان درخواستوں پر عدالت کا موقف اور آئندہ ہدایات ان معاملات میں اہم پیش رفت ثابت ہو سکتی ہیں۔







