آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ کے وفد کے دورہ اتراکھنڈ کے ضمن میں ضلع ہریدوار کے قصبہ منگلور میں ایک اہم اجلاس منعقد ہوا، جس کی صدارت بورڈ کے صدر حضرت مولانا خالد سیف اللہ رحمانی صاحب دامت برکاتہم نے فرمائی۔ مفتی توفیق الہی قاسمی کی دعوت پر منعقد ہونے والے اس اجلاس کا انتظام و انصرام حضرت مولانا مفتی معصوم علی قاسمی صاحب (ناظم جامعہ عربیہ مدرسۃ المؤمنین منگلور وصدر اصلاح معاشرہ کمیٹی اتراکھنڈ) نے بحسن و خوبی انجام دیا۔ اس نشست میں بورڈ کے مرکزی قائدین نے موجودہ حالات کے تناظر میں ملتِ اسلامیہ کی دینی و قانونی رہنمائی کے لیے تفصیلی اور مبنی بر ہمت و حکمت پیغام دیا۔
حضرت مولانا محمد عمرین محفوظ رحمانی صاحب (سکریٹری آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ) نے اپنے ولولہ انگیز خطاب میں اس حقیقت پر زور دیا کہ دنیا کا بنایا ہوا کوئی بھی قانون مسلمانوں کو اپنی شریعت پر عمل کرنے اور اس کی حفاظت کرنے سے نہیں روک سکتا۔ انہوں نے دوٹوک انداز میں واضح کیا کہ شریعت کی اصل حفاظت محض قانونی دفعات یا عدالتوں کے سہارے نہیں ہوتی، بلکہ اس کا دارومدار مسلمانوں کے عملی رویے پر ہے۔ آپ نے حاضرین کو یہ پیغام دیا کہ اگر مسلمان اپنی زندگیوں کو اسلامی سانچے میں ڈھال لیں اور شریعت پر مضبوطی کے ساتھ عمل پیرا ہو جائیں، تو کوئی بھی خارجی قوت ان کے مذہبی تشخص کو نقصان نہیں پہنچا سکتی۔
بورڈ کے جنرل سکریٹری حضرت مولانا فضل الرحیم مجددی صاحب نے مسلم پرسنل لا کی قانونی و سماجی اہمیت پر روشنی ڈالی اور اس بات پر زور دیا کہ پرسنل لا کا تحفظ دراصل ہماری مذہبی شناخت کا تحفظ ہے۔ انہوں نے مسلمانوں کو تلقین کی کہ وہ اپنی انفرادی، خاندانی اور سماجی زندگی میں شریعت کے احکامات کو اپنا شعار بنائیں اور حالات کی سنگینی کا ادراک کرتے ہوئے دین پر استقامت کا ثبوت دیں۔ ان کا کہنا تھا کہ شریعت پر عمل کرنا ہمارا آئینی حق بھی ہے اور مذہبی فریضہ بھی، جسے کسی بھی قیمت پر ترک نہیں کیا جا سکتا۔
اجلاس کے آخر میں اختتامی اور صدارتی خطاب کرتے ہوئے صدرِ بورڈ حضرت مولانا خالد سیف اللہ رحمانی صاحب نے علمائے کرام کو ان کی اہم ذمہ داریوں کی طرف متوجہ کرتے ہوئے فرمایا کہ وہ برادرانِ وطن کی جانب سے شریعتِ اسلامیہ پر کیے جانے والے اعتراضات کا "مجادلہ احسن" یعنی بہترین حکمتِ عملی اور مدلل جوابات کے ساتھ ازالہ کرنے کی بھرپور تیاری کریں۔ آپ نے مدارس کے تحفظ کے حوالے سے خاص طریقے پر یہ ہدایت دی کہ موجودہ قانونی محاصرے کو دیکھتے ہوئے ہر مدرسے کو اپنا ایک مستقل "لیگل ایڈوائزر" قائم کرنا چاہیے تاکہ کسی بھی قسم کی قانونی دشواری کا بروقت اور تکنیکی بنیادوں پر حل نکالا جا سکے۔
یکساں سول کوڈ (UCC) کے نفاذ کے حوالے سے آپ نے نہایت دور اندیشانہ رہنمائی فرمائی کہ قانون سے ٹکرائے بغیر شریعت پر عمل کرنے کا ایک مؤثر راستہ "وصیت کا قانون" ہے؛ مسلمان اپنی میراث کی تقسیم شریعت کے مطابق کرنے کے لیے قانون میں موجود وصیت کے اختیار کو استعمال کریں تاکہ وہ اپنی جائیداد کو اللہ کے حکم کے مطابق تقسیم کر سکیں۔ اس کے علاوہ آپ نے مسلمانوں کو اس بات کی بھی تاکید کی کہ وہ اپنے گھریلو اور عائلی تنازعات کو عدالتوں میں لے جا کر پیچیدہ بنانے کے بجائے مقامی سطح پر علماء کے ذریعے حل کرائیں اور معاشرے میں "فیملی کونسلنگ" کے نظام کو مضبوط بنائیں تاکہ خانگی زندگی میں انتشار کا خاتمہ ہو سکے۔
اس اہم نشست میں حضرت مولانا شرافت علی قاسمی (ناظم عمومی جمعیۃ العلماء اتراکھنڈ)، حضرت مولانا محمد ہارون صاحب (صدر جمعیۃ العلماء ہریدوار)، مفتی سلیم صاحب (رحمانیہ روڑکی)، مولانا طالب اور قاری زاہد (کلیر شریف) سمیت خطے کی دیگر اہم علمی و سماجی شخصیات نے شرکت فرمائی۔ یہ پروگرام اپنی جامعیت اور عملی پیغامات کی بدولت اتراکھنڈ کے مسلمانوں کے لیے موجودہ پرآشوب حالات میں حوصلے اور رہنمائی کا ایک مضبوط ذریعہ ثابت ہوا۔