نائب صدر جے ڈی وینس کی قیادت میں ایک امریکی وفد آج اسلام آباد پہنچنے والا ہے، تاہم ایران نے مجوزہ مذاکرات میں شرکت سے انکار کر دیا ہے جس سے خطے میں سفارتی کشیدگی مزید بڑھ گئی ہے۔ رپورٹس کے مطابق، امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ ایران کے اس فیصلے پر شدید برہم ہیں اور انہوں نے تہران کو سخت نتائج کی دھمکی دی ہے۔ ٹرمپ کا کہنا ہے کہ اگر جنگ بندی یا امن معاہدہ نہ ہو سکا تو ایران کو “مکمل تباہی” کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔
یہ پیش رفت ایک ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب امریکہ اور ایران کے درمیان کشیدگی میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔ ایران نے واضح کیا ہے کہ وہ منگل کو اسلام آباد میں ہونے والے براہ راست مذاکرات کے دوسرے دور میں شرکت نہیں کرے گا اور اس کا کوئی وفد پاکستان نہیں آئے گا۔
ذرائع کے مطابق، ایران نے مذاکرات سے انکار کی وجوہات میں امریکہ کے “غیر حقیقی مطالبات”، بار بار بدلتا ہوا مؤقف، متضاد بیانات، اور آبنائے ہرمز میں بحری ناکہ بندی جیسے اقدامات کو شامل کیا ہے۔ ایران کے اس سخت مؤقف کے بعد مذاکرات منسوخ ہونے کے امکانات بڑھ گئے ہیں، تاہم پاکستان اور دیگر ثالثی کرنے والے ممالک کی جانب سے سفارتی کوششیں جاری ہیں۔
دوسری جانب، پاکستان کے وزیر اعظم شہباز شریف نے ایرانی صدر مسعود پیزشکیان سے ٹیلی فون پر رابطہ کیا اور موجودہ علاقائی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا۔ اس گفتگو میں وزیر اعظم نے سعودی عرب، قطر اور ترکی کی قیادت سمیت دیگر عالمی رہنماؤں کے ساتھ اپنی حالیہ سفارتی سرگرمیوں کا بھی ذکر کیا۔
یہ تمام پیش رفت ایسے وقت میں ہو رہی ہے جب امریکہ نے اعلان کیا تھا کہ اس کے مذاکرات کار ایران کے ساتھ امن بات چیت کے لیے اسلام آباد پہنچیں گے، تاہم ایران کی جانب سے شرکت کی باضابطہ تصدیق نہ ہونے کے باعث صورتحال غیر یقینی کا شکار ہے۔