Monday, April 20, 2026 | 02 ذو القعدة 1447
  • News
  • »
  • کاروبار
  • »
  • ہندوستان اور روس کے درمیان 2025 کے فوجی تعاون معاہدے پر عمل درآمد شروع

ہندوستان اور روس کے درمیان 2025 کے فوجی تعاون معاہدے پر عمل درآمد شروع

    Reported By: Munsif News Bureau | Edited By: MD Shahbaz | Last Updated: Apr 20, 2026 IST

ہندوستان اور روس کے درمیان 2025 کے فوجی تعاون معاہدے پر عمل درآمد شروع
ہندوستان اور روس نے 2025 میں ایک اہم فوجی معاہدے پر دستخط کیے تھے جس کے تحت دونوں ممالک کے درمیان دفاعی اور لاجسٹک تعاون میں نمایاں اضافہ کیا جائے گا۔ اس معاہدے کے مطابق دونوں ممالک ایک دوسرے کے علاقوں میں جنگی جہاز، لڑاکا طیارے اور فوجی اہلکار تعینات کرنے کے قابل ہوں گے۔
 
تفصیلات کے مطابق ہر ملک دوسرے ملک کے علاقوں میں پانچ جنگی جہاز اور دس لڑاکا طیارے تعینات کر سکے گا، جبکہ مجموعی طور پر تین ہزار فوجی اہلکاروں کی تعیناتی کی بھی اجازت دی گئی ہے۔ یہ فوجی اہلکار زمینی اور فضائی اڈوں، بندرگاہوں اور مختلف عسکری اسٹیشنز پر خدمات انجام دے سکیں گے۔
 
فروری 2025 میں طے پانے والا یہ معاہدہ اب باضابطہ طور پر نافذ العمل ہو چکا ہے اور اسے 'ہندوستان-روس باہمی لاجسٹک ایکسچینج معاہدہ' کے نام سے جانا جا رہا ہے۔ یہ معاہدہ پانچ سال کے لیے مؤثر ہوگا اور دونوں ممالک کی رضامندی سے اس میں توسیع بھی کی جا سکتی ہے۔ روس کو طویل عرصے سے ہندوستان کا ایک اہم دفاعی شراکت دار سمجھا جاتا ہے اور وہ جدید ہتھیاروں کا سب سے بڑا سپلائر بھی ہے۔
 
اعداد و شمار کے مطابق 2020 سے 2024 کے دوران ہندوستان دنیا کے سب سے بڑے دفاعی درآمد کنندگان میں شامل رہا ہے اور اس عرصے میں روس کا حصہ تقریباً 36 فیصد رہا ہے۔ دونوں ممالک کے درمیان اس نئے معاہدے کو اسٹریٹجک تعلقات کو مزید مضبوط بنانے اور خطے میں دفاعی توازن برقرار رکھنے کے لیے ایک اہم قدم قرار دیا جا رہا ہے۔
 
دونوں ممالک کی عسکری قیادت کے مطابق اس معاہدے سے مشترکہ مشقوں، انٹیلیجنس شیئرنگ اور ہنگامی صورتحال میں فوری ردعمل کی صلاحیت میں بھی اضافہ ہوگا۔ تجزیہ کاروں کے مطابق یہ پیش رفت خطے میں طاقت کے توازن پر اثر ڈال سکتی ہے اور عالمی سطح پر دفاعی اتحادوں کی نئی صف بندی کا باعث بن سکتی ہے۔ یہ معاہدہ خطے کی جیوپولیٹیکل صورتحال میں اہم ہے۔