بھارت کی دہلی ہائی کورٹ نے ایکسائز پالیسی کیس میں عام آدمی پارٹی کے کنوینر اور دہلی کے سابق وزیر اعلیٰ اروند کیجریوال کے دائر کردہ حلف نامے کو ریکارڈ پر لے لیا ہے۔ عدالت اب اس معاملے پر آج شام 4:30 بجے اپنا فیصلہ سنائے گی، جس میں کیجریوال کی اس درخواست پر بھی فیصلہ متوقع ہے جس میں انہوں نے جسٹس جسٹس سوارانا کانتا شرما کو کیس کی سماعت سے الگ ہونے کی استدعا کی ہے۔
سماعت کے دوران ویڈیو کانفرنسنگ کے ذریعے پیش ہوتے ہوئے اروند کیجریوال نے مؤقف اختیار کیا کہ ان کے جوابی حلف نامے کو قبول نہ کرنا “انصاف کے تقاضوں کے منافی” ہوگا۔ تاہم جسٹس جسٹس سوارانا کانتا شرما نے ریمارکس دیے کہ اس نوعیت کے بیانات مناسب نہیں ہیں، اور واضح کیا کہ قواعد کے باوجود اضافی حلف نامہ ریکارڈ پر لے لیا گیا ہے۔
اس موقع پر سالیسٹر جنرل تشار مہتا نے کیجریوال کی درخواست کی مخالفت کرتے ہوئے کہا کہ تحریری دلائل کے لیے اضافی حلف نامے کی ضرورت نہیں تھی اور فریقین کو پہلے ہی کافی وقت دیا جا چکا ہے۔
کیجریوال نے اپنی درخواست میں “براہ راست مفادات کے ٹکراؤ” کا الزام بھی عائد کیا، اور دعویٰ کیا کہ جج کے اہلِ خانہ کا تعلق مرکزی حکومت کے پینل سے ہے جہاں سے سالیسٹر جنرل کے ذریعے قانونی خدمات حاصل کی جاتی ہیں۔ ان الزامات کے بعد ان کی پارٹی کے رہنما منیش سسودیا اور درگیش پاٹھک نے بھی جج کی علیحدگی کے لیے درخواستیں دائر کی ہیں۔
دوسری جانب سی بی آئی کی نمائندگی کرنے والے سالیسٹر جنرل تشار مہتا نے ان درخواستوں کی سخت مخالفت کرتے ہوئے کہا کہ یہ عدالت پر دباؤ ڈالنے کی کوشش ہے اور ایسے اقدامات پر توہین عدالت کی کارروائی ہونی چاہیے۔ انہوں نے جج پر زور دیا کہ وہ “دباؤ کے سامنے نہ جھکیں” اور ادارہ جاتی وقار کو برقرار رکھیں۔
یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب اسی ایکسائز پالیسی کیس میں 27 فروری کو ایک ماتحت عدالت نے کیجریوال اور منیش سسودیا سمیت دیگر ملزمان کو بری کر دیا تھا، یہ قرار دیتے ہوئے کہ سی بی آئی کا مقدمہ عدالتی معیار پر پورا نہیں اترتا اور الزامات ثابت نہیں ہو سکے۔