Monday, April 20, 2026 | 02 ذو القعدة 1447
  • News
  • »
  • عالمی منظر
  • »
  • اسلام آباد میں ایران-امریکہ مذاکرات کی غیر یقینی صورتحال، شہباز شریف کی عالمی رہنماؤں سے بات

اسلام آباد میں ایران-امریکہ مذاکرات کی غیر یقینی صورتحال، شہباز شریف کی عالمی رہنماؤں سے بات

    Reported By: Munsif News Bureau | Edited By: MD Shahbaz | Last Updated: Apr 20, 2026 IST

اسلام آباد میں ایران-امریکہ مذاکرات کی غیر یقینی صورتحال، شہباز شریف کی عالمی رہنماؤں سے بات
پاکستان کے وزیر اعظم شہباز شریف نے ایرانی صدر مسعود پیزشکیان سے ٹیلی فونک رابطہ کیا ہے جس میں دونوں رہنماؤں نے موجودہ علاقائی اور سفارتی صورتحال پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا۔ گفتگو کے دوران وزیر اعظم شہباز شریف نے سعودی عرب، قطر اور ترکی کی قیادت سمیت متعدد عالمی رہنماؤں کے ساتھ اپنی حالیہ سفارتی مصروفیات سے ایرانی صدر کو آگاہ کیا۔ یہ رابطہ ایسے وقت میں ہوا ہے جب خطے میں ایران اور امریکہ کے درمیان کشیدگی بڑھ رہی ہے۔
 
دوسری جانب سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اعلان کیا تھا کہ امریکی مذاکرات کار ایران کے ساتھ امن بات چیت کے لیے پیر کو اسلام آباد پہنچیں گے، تاہم ایران کی جانب سے دوسرے دور مذاکرات میں شرکت کی باضابطہ تصدیق نہیں کی گئی، جس سے اس عمل کے مستقبل پر سوالات اٹھ گئے ہیں۔ اسی دوران ایران کے پہلے نائب صدر محمد رضا عارف نے عالمی توانائی منڈیوں اور تیل کی قیمتوں سے متعلق ایک بیان میں کہا ہے کہ عالمی سطح پر تیل کی قیمتوں میں استحکام صرف اسی صورت ممکن ہے جب ایران کی تیل برآمدات پر عائد اقتصادی اور فوجی دباؤ ختم کیا جائے۔
 
انہوں نے اپنی سوشل میڈیا پوسٹ میں مؤقف اختیار کیا کہ ایران کی تیل برآمدات کو روکنے سے عالمی معیشت میں عدم استحکام پیدا ہوتا ہے، اور “کسی کے لیے مفت سیکیورٹی” کی توقع بھی نہیں رکھی جا سکتی۔ ان کے مطابق عالمی توانائی نظام کے لیے دو ہی راستے ہیں: یا تو سب کے لیے آزاد منڈی، یا پھر سب کے لیے قیمتوں میں شدید اتار چڑھاؤ کا خطرہ۔
 
ادھر توانائی منڈیوں میں بھی غیر یقینی صورتحال دیکھی گئی، جہاں ابتدائی تجارتی سیشن کے دوران خام تیل کی قیمتوں میں اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔ تجزیہ کاروں کے مطابق یہ اضافہ ایران اور امریکہ کے درمیان تعطل اور آبنائے ہرمز میں کشیدگی کے باعث ہوا ہے، جس سے ٹینکرز کی نقل و حرکت متاثر ہونے کے خدشات پیدا ہو گئے ہیں۔
 
آبنائے ہرمز عالمی توانائی تجارت کے لیے ایک اہم گزرگاہ سمجھی جاتی ہے، اور اس خطے میں کسی بھی قسم کی کشیدگی فوری طور پر عالمی منڈیوں پر اثر ڈالتی ہے۔ مجموعی طور پر خطے کی صورتحال بدستور غیر یقینی ہے، جبکہ پاکستان اور دیگر علاقائی ممالک سفارتی سطح پر کشیدگی کم کرنے کی کوششیں جاری رکھے ہوئے ہیں۔