دہلی پولیس کی کرائم برانچ نے الفلاح یونیورسٹی کے چیئرمین جواد صدیقی کو مبینہ دھوکہ دہی اور سنگین خلاف ورزیوں کے کیس میں گرفتار کر لیا ہے۔ یہ کاروائی یونیورسٹی گرانٹس کمیشن (یو جی سی) کی جانب سے درج کرائی گئی شکایات کی بنیاد پر کی گئی ہے۔ اس معاملے میں دو الگ الگ ایف آئی آر درج کی گئی تھیں۔
عدالت میں پیش کیا گیا:
گرفتاری کے بعد صدیقی کو دہلی کی ایک عدالت میں پیش کیا گیا، جہاں عدالت نے کرائم برانچ کو 4 دن کی پولیس ریمانڈ دے دی۔ پولیس کے مطابق پوچھ گچھ کے دوران کئی اہم معلومات سامنے آنے کا امکان ہے۔
یو جی سی کی شکایت پر دو الگ الگ ایف آئی آر درج:
پولیس افسران کے مطابق، یو جی سی کی شکایت کے بعد کرائم برانچ نے صدیقی کے خلاف دھوکہ دہی، دستاویزات میں ہیرا پھیری اور دیگر سنگین الزامات میں دو الگ الگ مقدمات درج کیے۔ الزام ہے کہ یونیورسٹی انتظامیہ میں بڑے پیمانے پر جعلی وارا اور ریکارڈ میں ہیرا پھیری کی گئی۔
اس سے قبل انفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ (ای ڈی) بھی اس معاملے میں کاروائی کر چکا ہے۔ اب ای ڈی یونیورسٹی کی فنڈنگ، مالی لین دین اور میڈیکل سٹاف سے متعلق ٹرانزیکشنز کی بھی تفتیش کر رہا ہے۔
یونیورسٹی پہلے بھی تنازعات میں رہی:
الفلاح یونیورسٹی پہلے بھی قومی سطح پر خبروں میں رہی ہے۔ تحقیقات میں سامنے آیا تھا کہ دہلی کے لال قلعہ کے قریب دھماکے کے کیس میں مجرم قرار دیے گئے ڈاکٹر عمر نبی (جس میں 13 افراد ہلاک ہوئے تھے) یونیورسٹی میں ملازم تھے۔اس کے علاوہ ان کے دو ساتھی ڈاکٹر مجمل شکیل اور ڈاکٹر شاہین شاہد بھی ادارے سے منسلک پائے گئے تھے، جنہیں تفتیشی ایجنسیوں نے ایک مبینہ “وائٹ کالر ٹیرر نیٹ ورک” سے جوڑا تھا۔
این اے اے سی نوٹس کے بعد ویب سائٹ آف لائن:
نومبر 2024 میں نیشنل اسیسمنٹ اینڈ ایکریڈیٹیشن کونسل (این اے اے سی) نے یونیورسٹی کو جعلی ایکریڈیٹیشن کے دعووں کے حوالے سے شو کاز نوٹس جاری کیا تھا۔ اس کے بعد یونیورسٹی کی ویب سائٹ کو آف لائن کر دیا گیا تھا۔ اب ای ڈی نے بھی واضح کیا ہے کہ وہ یونیورسٹی سے منسلک مالی ذرائع، مشکوک فنڈنگ اور ٹرانزیکشنز کی گہری تفتیش کرے گی۔